منگل 26 صفر 1448 | 2026-08-11

A a

«میری خواہش ہوتی تھی کہ میں خانہ کعبہ میں داخل ہوجاؤں، پھر اس میں نماز پڑھوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے حطیم میں داخل کر دیا اور فرمایا: جب تم بیت اللہ میں داخل ہونا چاہو تو حطیم میں نماز پڑھ لیا کرو کیونکہ یہ بیت اللہ ہی کا ایک ٹکڑا ہے۔ تمھاری قوم نے جب کعبہ تعمیر کیا تو اسی پر اِکتفا کیا، چنانچہ انھوں نے اسے بیت اللہ سے باہر نکال دیا۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مسند احمد (حدیث نمبر 24616)، سنن ابوداود (حدیث نمبر 2028)، سنن ترمذی (حدیث نمبر 876) اور سنن نسائی (حدیث نمبر 2912) میں مروی ہے۔ الفاظ سنن ابى داود کے ہیں۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 876) اور صحیح ابوداود (حدیث نمبر 1769) ۔  


حدیث کی مختصر وضاحت


بیت اللہ کی نمایاں نشانیوں میں سے ایک ’’حِجر‘‘ ہے۔ یہ وہ خم دار نیم دائرہ نما دیوار ہے جو کعبہ کے شمالی جانب متصل ہے اور اسے ’’حطیم‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
اس حدیث میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ انھیں کعبہ کے اندر نماز پڑھنا پسند تھا، اس لیے کہ اس مقام کی فضیلت، شرف اور حرمت بہت عظیم الشان ہے۔ تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑا، انھیں حِجر میں داخل کیا اور فرمایا: «جب خانہ کعبہ کے اندر داخل ہونے کا ارادہ ہو تو حِجر میں پڑھ لیا کرو کیونکہ وہ خانہ کعبہ ہی کا حصہ ہے۔» یعنی حطیم میں نماز خانہ کعبہ کے اندر نماز کے برابر ہے کیونکہ حکم اور حرمت کے اعتبار سے یہ خانہ کعبہ ہی کا حصہ ہے۔
’’حِجر‘‘ نام رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ قریش نے دورِ جاہلیت میں جب کعبہ کی تعمیرِ نو کی تو ارادہ کیا کہ صرف حلال مال ہی اس پر خرچ کریں گے، چنانچہ جب خرچ کم پڑ گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اصل بنیاد سے کچھ حصہ چھوڑ دیا اور اسے دیوار کے باہر رکھ دیا۔ یہی معنی ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے: «تمھاری قوم نے جب کعبہ تعمیر کیا تو اسے مختصر کر دیا اور یہ حصہ کعبہ سے باہر نکال دیا۔»
حدیث مبارک سے یہ مستفاد ہوا کہ حطیم کے اندر طواف شمار نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس طرح طواف پورے کعبہ کے گرد نہیں، بلکہ اس کے بعض حصے کے گرد ہوتا ہے، جبکہ طواف اسی وقت درست شمار ہوتا ہے جب پورے بیت اللہ کا چکر لگایا جائے۔
اسی طرح حدیث مبارک میں یہ بیان ہوا ہے کہ کعبہ کے اندر نماز پڑھنا، مرد ہو یا عورت، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نزدیک مشروع اور معروف عمل تھا۔ علاوہ ازیں حِجر درحقیقت کعبہ ہی کا حصہ ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔