جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«جو مسلمان بھی تلبیہ پکارتا ہے تو اس کے دائیں یا بائیں پائے جانے والے پتھر، درخت اور مٹی کے ڈھیلے، سبھی تلبیہ پکارتے ہیں، یہاں تک کہ دونوں طرف کی زمین کے آخری سرے تک کی چیزیں سبھی تلبیہ پکارتی ہیں۔»


یہ حدیث بروایت حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سنن ترمذی (حدیث نمبر 828)، سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 2921)، مستدرک حاکم (حدیث نمبر 1656) اور صحیح ابن خزیمہ (حدیث نمبر 2634) میں مروی ہے۔ الفاظ سنن ترمذی کے ہیں۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 5770) اور صحیح ترغیب وترہیب (حدیث نمبر 1134)۔ 


حدیث کی مختصر وضاحت


تلبیہ حج کے عظیم شعائر میں سے ہے۔ یہ اللہ کی وحدانیت کا اعلان ہے، اس کی پکار پر لبیک کہنا ہے اور اس کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ہے۔ اس کی فضیلت پر بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں، ان میں سے ایک وہ ہے جسے جلیل القدر صحابی حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جو مسلمان بھی تلبیہ پکارتا ہے تو اس کے دائیں یا بائیں پائے جانے والے پتھر، درخت اور مٹی کے ڈھیلے، سبھی تلبیہ پکارتے ہیں، یہاں تک کہ دونوں طرف کی زمین کے آخری سرے تک کی چیزیں سبھی تلبیہ پکارتی ہیں۔»
تلبیہ دراصل حج اور عمرے کے لیے اللہ کی پکار کا جواب ہے، اس کے سامنے عاجزی کا اظہار ہے، توحید کا اعلان ہے، اللہ کے فضل اور اس کی بادشاہی کا اقرار ہے اور اس بات کی شہادت ہے کہ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس حدیث سے ذکرِ الٰہی کی عظمت اور تلبیہ پڑھنے والے کے بلند مقام کا پتا چلتا ہے کہ تمام مخلوقات؛ پتھر، درخت اور مٹی کے ڈھیلے بھی اس شعار کی تعظیم میں اور حاجیوں کے احترام میں حاجیوں کے ساتھ اللہ کے ذکر میں شریک ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ تلبیہ کی آواز زمین کے کناروں؛ مشرق ومغرب تک پہنچ جاتی ہے اور پوری کائنات اللہ کے ذکر سے گونج اٹھتی ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عبادت کا مقصد ایک ہی ہے اور ساری مخلوق اپنے خالق کے سامنے جھکی ہوئی ہے۔
’’المدر‘‘ سے مراد خشک مٹی کے ٹکڑے یا ڈھیلے ہیں۔
مشرق ومغرب کی تخصیص عموم بیان کرنے کے لیے ہے، ورنہ یہ دیگر جہتوں کے منافی نہیں ہے، جیسے: سامنے اور پیچھے کی جہتیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تلبیہ بکثرت اور بآوازِ بلند پڑھنا مشروع ہے کیونکہ یہ اللہ کے عظیم الشان شعائر میں سے ہے۔ اور امید ہے کہ تلبیہ پڑھنے والے کو ان تمام چیزوں کا ثواب بھی ملے گا جو اس کے ساتھ تلبیہ پڑھ رہی ہیں کیونکہ نیکی سکھانے والا اسے کرنے والے جیسا ہوتا ہے۔ اور اللہ کا فضل بہت وسیع ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔