جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے اجازت دیجیے کہ میں خصی ہوجاؤں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا خِصا تو روزہ اور قیام ہے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما مسند احمد (حدیث نمبر 6612) اور معجم کبیر طبرانی (حدیث نمبر 108) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 3228) اور سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 1830)۔ تحقیقِ حدیث کے بعد علامہ البانی فرماتے ہیں: ’’بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ حدیث ان اسناد کے مجموعے کے ساتھ صحیح ہے، البتہ لفظ ’’قیام‘‘ منکر (ضعیف) ہے۔‘‘


حدیث کی مختصر وضاحت


یہ حدیث اسلام کی حکمتِ عملی کو واضح کرتی ہے کہ اس نے شہوت کو قابو میں رکھنے اور نفس کی تربیت کا کیا راستہ اختیار کیا ہے، چنانچہ یہ صحابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خصی ہونے کی اجازت مانگ رہے تھے، یعنی اپنی جنسی قوت کو بالکل ختم کر دینا چاہتے تھے، تاکہ سفر اور جہاد کے دوران عزوبت کی مشقت سے بچ جائیں، فتنے سے محفوظ رہیں اور عبادت کے لیے مکمل طور پر فارغ ہوجائیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہی عفت وپاک دامنی اور مجاہدۂ نفس کے زیادہ قریب ہے۔ تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں سمجھایا کہ میری امت کا طریقہ فطرت کو مارنا اور جسم کو عذاب دینا نہیں، بلکہ روزے کے ذریعے شہوت کو توڑنا اور قابو میں رکھنا ہے۔ روزہ شہوت کو کم کرتا ہے، مگر نہ فطرت کو ختم کرتا ہے اور نہ جسم کو نقصان پہنچاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسری حدیث میں فرمایا: «اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شادی کی استطاعت رکھتا ہو تو وہ شادی کرے۔ اور جو استطاعت نہ رکھتا ہو تو اسے روزہ رکھنا چاہیے کیونکہ روزہ اس کے لیے ڈھال ہے۔» چنانچہ یہ اسلام کا ’’خِصاء‘‘ ہے جس کی راہنمائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔ رہا اصلی خصاء، یعنی خصیتین کو نکال دینا تو شریعت نے اسے حرام قرار دیا ہے۔ علماء کا اس کی حرمت پر اجماع ہے، خواہ کرنے والا بچہ ہو یا بڑا، آزاد ہو یا غلام کیونکہ یہ اللہ کی تخلیق کو بدلنا اور نکاح کے مقصدِ اصلی کو ختم کرنا ہے۔ اسی طرح ہر وہ طریقہ اور چیز حرام ہے جو شہوت کو بالکل مار دے، یا جان بوجھ کر نسل کو روک دے۔صحیح حدیث میں ہے کہ جب حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے تبتل وتجرد (شادى نہ کرنے اور تنہا رہنے) کی اجازت مانگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرمادیا۔ راوی کہتے ہیں: «اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دے دیتے تو ہم خصی ہوجاتے۔» اس سے صاف معلوم ہوا کہ تبتل وخِصاء اور ترکِ نکاح اللہ تعالیٰ کے حلال کردہ کو ازخود حرام کرنا اور شریعت کے مقاصدِ نکاح وسلسلۂ نسل سے غفلت برتنا ہے۔ جس نے زُہد وبے رغبتی اور آخرت کی یاد کے نام پر یہ راستہ اختیار کیا، وہ راہِ راست سے بھٹک گیا کیونکہ یہ اُس مذموم رہبانیت کی ایک قسم ہے جس کی اسلام میں کوئی بنیاد نہیں!
اس حدیث میں نوجوانوں کو دعوت ہے کہ وہ اپنی فطری ضرورت اور عبادت کے درمیان اعتدال اختیار کریں کیونکہ اسلام میں نہ رہبانیت ہے اور نہ دنیا سے مکمل کنارہ کشی کا کوئی تصور ہے، بلکہ اس میں تزکیۂ نفس کا مسلسل عمل ہے، حتیٰ کہ وہ بغیر افراط وتفریط کے اللہ کے حکم پر سیدھا چلنے والا بن جائے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔