منگل 26 صفر 1448 | 2026-08-11

A a

«میں نے اپنا سینہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تکیہ بنا رکھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کے چہرے کی خواہش رکھتے ہوئے لا الٰہ الا اللہ کہا اور اس کی زندگی اسی اقرار پر ختم ہوئی تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ جس شخص نے اللہ کے چہرے کی خواہش رکھتے ہوئے کسی دن کا روزہ رکھا اور اسی پر اس کا اختتام ہوا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ جس شخص نے اللہ کے چہرے کی خواہش رکھتے ہوئے صدقہ کیا اور اسی پر اس کا اختتام ہوا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔»


یہ حدیث بروایت حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ مسند احمد (حدیث نمبر 23324)، مسند بزار (حدیث نمبر 2854)، مسند شامیین للطبرانی (حدیث نمبر 2449) اور الاسماء والصفات للبیہقی (حدیث نمبر 651) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ مسند احمد کے ہیں۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 6224) اور صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 985) ۔ 


حدیث کی مختصر وضاحت


نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو وہ اعمال سکھانے کی شدید خواہش رکھتے تھے جو ان کے لیے نفع بخش ہوں۔ اسی طرح بلندیِ درجات اور گناہوں کے کفارے کے اسباب انھیں یاد دلاتے تھے، حتیٰ کہ اپنے مرض کے دوران بھی اس کا اہتمام جاری رکھتے، جیساکہ اس واقعے سے بھی ثابت ہوتا ہے، چنانچہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ٹیک اپنے سینے سے لگائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حسنِ خاتمہ کی بابت یہ جامع باتیں ارشاد فرمائیں جن میں سے ایک یہ ہے : کہ جو شخص’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ (اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں ہے) کہے، اللہ تعالیٰ کے چہرے (کے دیدار) کی خواہش رکھتے ہوئے، اس کلمہ کے معنی پر کامل یقین رکھتے ہوئے، توحیدِ خالص کے ساتھ اور بغیر کسی ریاکاری یا شہرت کی خواہش کے،اور پھر اللہ اسے سعادت دے کہ یہ کلمہ اس کی زندگی کی آخری بات بن جائے تو یہ خیر کی علامت اور جنت میں داخلے کی بشارت ہے، خواہ یہ داخلہ فوری طور پر ہوجائے، یا گناہوں سے پاک وصاف كردیے جانے کے بعد ہو۔
اسی طرح جو شخص روزے کی حالت میں یا روزہ رکھنے کے فوراً بعد، يا صدقہ کرنے کى حالت میں یا صدقہ کرنے کے فوراً بعدوفات پاجائے تو یہ بھی خیر کی نشانی اور جنت کی بشارت ہے۔ یہ حکم صرف روزے اور صدقے تک محدود نہیں ہے، بلکہ نیکی کے ہر کام پر عمومی ہے کیونکہ عملِ صالح پر زندگی کا اختتام حسنِ خاتمہ کی سب سے بڑی علامتوں میں سے ہے۔
اسی بنا پر سلف صالحین ایسے لوگوں کے لیے خیر کی اُمید رکھتے تھے جو نماز کی حالت میں، یانماز کے فوراً بعد، حج کے دوران، یا اس سے فارغ ہونے کے بعد، یا کسی اور نیک عمل پر، یا اس کے بعد وفات پا جاتے تھے۔
اس کے معنی یہ نہیں کہ جو شخص ایسی حالت میں نہ وفات پاسکے تو وہ جہنمی ہے، بلکہ مقصود اُن لوگوں کی فضیلت کا بیان ہے جنھیں اللہ تعالیٰ نے ایسی سعادت بخشی ہے اور یہ کہ یہ اس کے حسنِ خاتمہ کی واضح علامت ہے۔
حدیث مبارک میں یہ بھی واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص ہی ان اعمال کو حسنِ خاتمہ سے جوڑتا ہے۔ اسی طرح حدیث مبارک میں اطاعت پر استقامت کی تلقین کی گئی ہے، خاص طور پر ذکر اور قرآن کی تلاوت جیسے آسان اعمال پر مداومت کی جائے، تاکہ جب موت آئے تو بندہ طاعت کی حالت میں ہو یا اس سے فراغت پائی ہو تو یہ اس کے لیے اچھے خاتمے کی بشارت بن جائے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔