«سحری کھانا برکت ہے، چنانچہ تم اسے ہرگز نہ چھوڑو، خواہ تم میں سے کوئی ایک گھونٹ پانی ہی کیوں نہ پی لے، کیونکہ اللہ عز وجل سحری کھانے والوں پر رحمت نازل فرماتا ہے اور ان كى تعريف كرتا ہے اور اس کے فرشتے ان کے لیے دعائے مغفرت وبرکت کرتے ہیں۔»
یہ حدیث بروایت حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مسند احمد (حدیث نمبر 11086) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 1654) اور صحیح ترغیب وترہیب (حدیث نمبر 1070)۔
حدیث کی مختصر وضاحت
روزہ ان عظیم ترین عبادات میں سے ہے جن کا اسلام نے خاص اہتمام کیا ہے، اس لیے اس نے وہ تمام چیزیں مشروع قرار دی ہیں جو انھیں بہترین طریقے سے پورا کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ انھی میں سے ایک یہ ہے کہ سحری کھانے کی خوب ترغیب دی گئی ہے۔ سحری کھانا سنتِ موکدہ ہے۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی سحری کھائی اور اس کی ترغیب بھی دی۔
سحری وہ کھانا ہے جو سحر کے وقت روزے کی نیت سے کھایا جائے۔ یہ اپنے اندر موجود خیر کی بدولت سراسر برکت ہے، کیونکہ یہ عبادت میں مددگار ہے، اس سے روزے پر طاقت ملتی ہے اور دن بھر عبادت میں چستی بحال رکھتا ہے۔ اسی طرح اس میں سنتِ نبوی پر عمل ہے، اہلِ کتاب (یہود ونصاریٰ) کی مخالفت ہے اور سحر کے مبارک وقت سے فائدہ اُٹھایا جاتا ہے جو دعا، ذکر اور استغفار کا موقع ہے۔ چنانچہ سحری دین ودنیا، دونوں میں واضح برکت کا باعث ہے۔
فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم «تم اسے ہرگز نہ چھوڑو، خواہ تم میں سے کوئی ایک گھونٹ پانی ہی کیوں نہ پی لے» یعنی سحری کسی حال میں بھی نہ چھوڑو، خواہ تھوڑا سا کھا پی لینا ہو کیونکہ اس کی برکت نیک نیتی کے ساتھ محض عمل کرنے سے بھی حاصل ہوجاتی ہے۔
اور اس فرمان «کیونکہ اللہ عز وجل سحری کھانے والوں پر رحمت نازل فرماتا ہے اور اس کے فرشتے ان کے لیے دعائے مغفرت وبرکت کرتے ہیں» کے معنی یہ ہیں کہ اللہ ان کی تعریف کرتا ہے، ان پر رحم فرماتا ہے اور فرشتے ان کے لیے مغفرت وبرکت کی دعا کرتے ہیں۔ یہ اس سنتِ مبارکہ پر ان کے عمل کی محنت کا صلہ ہے۔
اس حدیث میں بیان ہوا ہے کہ سحری ایک سنت ہے، چنانچہ اسے ترک کرنا مناسب نہیں، خواہ پانی کا ایک گھونٹ ہی کیوں نہ ہو، تاکہ سنتِ نبوی پر عمل اور اہلِ کتاب کی مخالفت ہوجائے۔
اسی طرح حدیث مبارک میں سحری کھانے والوں پر اللہ کی رحمت اور تعریف اور اس کے فرشتوں کی دعائے مغفرت وبرکت کا بیان ہے۔