«جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھنے کا ارادہ فرماتے تو جو بہترین خوشبو آپ کو میسر ہوتی، وہ لگاتے۔ اس کے بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور داڑھی میں تيل كى چمک (یعنی خوشبو کا اثر) دیکھتى۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا صحیح مسلم (حدیث نمبر 1190) میں مروی ہے۔
صحیح بخاری (حدیث نمبر 5918) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1190) کی ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: «گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کی جڑوں میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھے ہوئے تھے۔»
حدیث کی مختصر وضاحت
اس حدیث میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے احرام باندھنے کے ارادے کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہم سنت بیان کی ہے اور وہ یہ کہ آپ صلى اللہ علیہ وسلم کا حج کے کاموں میں میں داخل ہونے سے پہلے خوشبو لگانا اور خود کو حج کے لئے بہترین طریقے سے تیار کرنے کی شدید خواہش رکھنا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام سے پہلے سب سے بہترین جو خوشبو ملتی، اس سے معطر ہوتے، پھر احرام باندھنے کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور داڑھی میں تیل اور خوشبو کا اثر نظر آتا رہتا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کی مزید تصدیق اپنے اس فرمان سے کی، جیساکہ صحیح بخاری ومسلم میں ہے: «گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کی جڑوں میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھے ہوئے تھے۔» بعض روایات میں «جب آپ تلبیہ پڑھ رہے تھے» یا «تین دن بعد» کے الفاظ ہیں۔ ان الفاظ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد خوشبو کے استعمال کی شدت کو بیان کرنا ہے، حتیٰ کہ احرام میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کی جڑوں میں اس کا اثر آپ رضی اللہ عنہا کی آنکھوں کے سامنے تھا۔ یہ ام المومنین رضی اللہ عنہا کی سنتِ نبوی کو درست اور محفوظ طریقے سے منتقل کرنے کی شدید لگن کو ظاہر کرتا ہے۔
آپ رضی اللہ عنہا کے فرمان «جو بہترین خوشبو ملتی، لگاتے» میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو سے محبت کی طرف اشارہ ہے جو دنیا کی ان چیزوں میں سے تھی جن کی محبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تھی، جیساکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: «مجھے دنیا (کی چیزوں) میں سے عورتیں اور خوشبو محبوب بنا دی گئی ہیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھ دی گئی ہے۔» (مسند احمد، سنن نسائی)۔
یہ حدیث مبارک احرام سے پہلے خوشبو لگانے کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہے اور یہ کہ احرام کے بعد اگر اس کا اثر باقی رہے تو کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح حدیث مبارک سے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت بھی ظاہر ہوتی ہے کہ انھوں نے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال اور اعمال کو کس دقیق نظری سے نقل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو اور انھیں خوش رکھے۔