جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«حجرِ اسود جنت سے اس حال میں اُترا کہ وہ دودھ سے زیادہ سفید تھا، لیکن اسے بنو آدم کے گناہوں نے سیاہ کردیا۔»


یہ حدیث مسند احمد (حدیث نمبر 2795)، سنن ترمذی (حدیث نمبر 877) اور صحیح ابن خزیمہ (حدیث نمبر 2733) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ سنن ترمذی کے ہیں۔
جبکہ مسند احمد میں بروایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما الفاظ یہ ہیں: «(حجرِ اسود) برف سے بھی زیادہ سفید تھا، حتیٰ کہ مشرکین کے گناہوں نے اسے سیاہ کر دیا۔»
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 6756) اور سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 2618)۔ 


حدیث کی مختصر وضاحت


دل ونفس پر گناہوں کے بُرے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور بسااوقات یہ اثرات فرد اور معاشرے تک پھیل سکتے ہیں، اس لیے ایک مسلمان کو گناہوں سے سخت احتیاط کرنی چاہیے اور تطہیر قلب اور تزکیۂ نفس کی کوشش کرنی چاہیے۔
اس حدیث مبارک میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ گناہوں کا اثر جمادات پر بھی ظاہر ہوتا ہے، چنانچہ اپنے اس فرمان: «حجر اسود جنت سے نازل ہوا»سے بیان کیا کہ حجرِ اسود جنت سے نازل ہوا تو انتہائی پاکیزگی اور سفیدی کی حالت میں تھا اور یہ اس کے شرف وفضیلت کی وضاحت ہے۔ یہ وہ پتھر ہے جو کعبہ کے مشرقی کونے میں واقع ہے اور ’’رکن اسود‘‘ کے نام سے معروف ہے۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: «وہ (حجر اسود) دودھ سے بھی زیادہ سفید تھا۔» ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ «برف سے زیادہ سفید۔» ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس قدر پاک صاف پتھر تھا۔ پھر فرمایا: «پھر بنو آدم کے گناہوں نے اسے سیاہ کر دیا۔» اور ایک روایت میں یوں ہے: «مشرکین کے گناہوں نے اسے سیاہ کر دیا۔» یعنی زمین پر وقوع پذیر کفر وشرک اور معاصی اس کے رنگ کی تبدیلی میں اثرانداز ہوئے۔
اس میں دل پر گناہوں کے اثرات کی بابت ڈراوا ہے کہ اگر گناہ جمادات کو متاثر کرسکتے ہیں تو دل پر ان کا اثر بدرجہ اولیٰ اور شدید تر ہوگا!
حدیث مبارک میں حجرِ اسود کی فضیلت کا بیان ہے، نیز گناہوں اور معاصی کی سنگینی کا ذکر ہے، ان سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے اور یہ کہ بدلنے اور متاثر ہونے میں صحبت اور ہم نشینی کا اثر ہوتا ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔