جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«جس بچے نے حج کیا، پھر وہ بلوغت کو پہنچ گیا تو اس پر ایک اور حج کرنا لازم ہے۔ اور جس اَعرابی (کافر) نے حج کیا، پھر ہجرت کی تو اس پر بھی ایک اور حج لازم ہے۔ اور جس غلام نے حج کیا، پھر آزاد ہوگیا تو اس پر بھی ایک اور حج لازم ہے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما معجم اوسط طبرانی (حدیث نمبر 2731)، سنن کبریٰ بیہقی (حدیث نمبر 9849) اور احادیث مختارہ از مقدسی (حدیث نمبر 537) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ معجم اوسط طبرانی کے ہیں۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 2729) اور ارواء الغلیل (حدیث نمبر 986)۔ 


حدیث کی مختصر وضاحت


حج ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر واجب فريضہ ہے اور یہ ارکانِ اسلام میں سے ایک رکن ہے۔ اسلام کا فريضۂ حج تب ہی ادا ہوتا ہے جب چند معتبر شرائط پوری ہوں جن میں سب سے اہم اسلام، بلوغت اور آزادی ہے۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان «جس بچے نے حج کیا، پھر وہ بلوغت کو پہنچ گیا تو اس پر ایک اور حج کرنا لازم ہے ...» سے یہی مراد ہے۔
’’حِنث‘‘ سے مراد شریعت کا مکلف ہونے کی عمر ہے کہ جس عمر میں انسان اپنے اعمال کا ذمہ دار ٹھہرتا ہے۔ اگر بچہ بلوغت سے پہلے حج کر لے تو وہ حج فرض حج شمار نہیں ہوتا، بلکہ یہ اس کى جانب سے نفلى حج ہوتا ہے جس پر اسے اجر ديا جائے گا۔ بلوغت کے بعد جب استطاعت ہو تو اس پر ایک اور حج ادا کرنا لازم ہے۔
الفاظِ روایت «اور جس اَعرابی نے حج کیا، پھر ہجرت کی...» میں ’’اعرابی‘‘سے مراد وہ شخص ہے جس نے اسلام سے پہلے حج کیا، پھر اسلام قبول کیا اور دار الکفر سے دار الاسلام کی طرف ہجرت کی۔ اس کے بعد اس پر اسلامی حج کرنا لازم ہے کیونکہ کفر کی حالت میں کیے گئے حج کے غیرمعتبر ہونے پر اجماع ہے۔
الفاظِ حدیث «اور جس غلام نے حج کیا، پھر آزاد ہوگیا...» یعنی کوئی غلام اگر اپنی غلامی کی حالت میں حج کرے تو وہ حج اسلامی حج سے کفایت نہیں کرے گا، بلکہ نفلی حج شمار ہوگا جس پر اسے اجر دیا جائے گا۔ پھر جب وہ آزاد ہوجائے تو استطاعت ہونے پر اس کے لیے اسلامی حج ادا کرنا واجب ہے۔
یہ حکم عام ہے اور مرد وعورت، دونوں پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔ مَردوں کا خاص ذکر ان کے غالب ہونے کی وجہ سے کیا گیا ہے، لہٰذا اگر کوئی لڑکی بلوغت سے پہلے حج کر لے، یا کوئی لونڈی حج کرنے کے بعد آزاد ہو، یا کوئی غیرمسلم عورت حج کرنے کے بعد مسلمان ہو تو ان عورتوں کا حکم بھی مَردوں جیسا ہی ہے کیونکہ اسلامی شریعت اس معاملے میں مرد وعورت میں تفریق نہیں کرتی۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔