«جب ماہِ رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا تہبند (لنگی) کس لیتے، اپنی رات کو زندہ رکھتے اور اپنے اہلِ خانہ کو جگاتے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا صحیح بخاری (حدیث نمبر 2024) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1174) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ صحیح بخاری کے ہیں۔
حدیث کی مختصر وضاحت
ماہِ رمضان کا آخری عشرہ نیکی کے موسموں میں سے عظیم الشان موسم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بہت بڑی فضیلت سے نوازا اور اس میں لیلۃ القدر رکھی ہے، جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اسی لیے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کےآخرى عشرے کى راتوں کی بہت قدر فرماتے اور عبادت میں غیرمعمولی جہد وسعی کرتے تھے، جیساکہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے اس فرمان میں بیان کیا کہ «جب ماہِ رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا تہبند کس لیتے، اپنی رات کو زندہ رکھتے اور اپنے اہلِ خانہ کو جگاتے۔»
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے الفاظ ہیں: «اپنا ازار (تہبند) کس لیتے» ’’ازار‘‘ اُس کپڑے کو کہتے ہیں جسے آدمی اپنے جسم کے نچلے حصے پر باندھتا ہے۔ ’’ازار باندھنا‘‘ عبادت میں جد وسعی اور پوری توجہ سے کنایہ ہے۔ بعض نے اسے ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے علیحدگی اور اُن مشغولیات کے ترک سے کنایہ قرار دیا ہے جو انسان کو نیکی سے غافل کردیتی ہیں۔ فرمانِ ام المومنین رضی اللہ عنہا «اپنی رات کو زندہ رکھتے» کے معنی یہ ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی رات نماز، ذکر، قرآن کی تلاوت اور دیگر اعمالِ تقرب میں مشغول رہ کر گزارتے؛ یا تو پوری رات یوں ہی گزارتے یا رات کا زیادہ تر حصہ ایسے ہی مشغولِ طاعت رہتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھا، بلکہ «اپنے اہلِ خانہ کو نیند سے جگایا» یعنی اپنے اہلِ خانہ کو لیلۃ القدر کی تلاش اور قیام اللیل کے لیے ان کی نیند سے بیدار فرمایا، تاکہ وہ بھی ان فضیلت والی راتوں سے استفادے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوں۔
حدیث مبارک میں ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی عظمت، خیر وبھلائی پر نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید خواہش، نیکی میں اپنے اہلِ خانہ کی حسنِ قیادت اور انھیں عبادت کے مواقع میں سنجیدگی اور بھرپور کوشش کا عادی بنانے پر دلالت کرتی ہے۔