«بیت اللہ کے گرد طواف نماز کے مانند ہے، سوائے اس کے کہ تم اس میں بات کرسکتے ہو، چنانچہ جو طواف کے دوران بات کرے تو وہ صرف خیر کی بات ہی کرے۔»
یہ حدیث مسند احمد (حدیث نمبر 15423)، سنن ترمذی (حدیث نمبر 960) اور سنن نسائی (حدیث نمبر 2922) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ سنن ترمذی کے ہیں۔
مسند احمد میں بروایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما الفاظ یوں ہیں: «طواف بھی نماز ہی ہے، اس لیے جب تم طواف کرو تو گفتگو کم کیا کرو۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 3955) اور ارواء الغلیل (حدیث نمبر 1102)۔
حدیث کی مختصر وضاحت
کعبہ کا طواف عظیم الشان عبادتوں میں سے ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تمام جگہوں کو چھوڑ کر اپنے گھر کے لیے خاص کیا ہے، تاکہ بندہ اس کے ذریعے اپنے رب کا قرب حاصل کرے۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کو فضیلت وحرمت میں نماز سے تشبیہ دی ہے، چنانچہ فرمایا: «بیت اللہ کے گرد طواف نماز جیسا عمل ہے» اور بعض روایات میں یہ الفاظ ہیں: «طواف تو نماز ہی ہے» یعنی طواف بھی ادب، خشوع اور عبادت کی تعظیم میں نماز جیسا ہے۔ اسی طرح اس میں طہارت اور سترپوشی کے تقاضے پورے کرنے چاہئیں جیسے نماز میں کیے جاتے ہیں، جیساکہ جمہور اہلِ علم کا موقف ہے۔
نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تشبیہ سے دورانِ طواف گفتگو کو مستثنیٰ قرار دیا ہے، چنانچہ فرمایا: «سوائے اس کے کہ تم اس میں بات کرسکتے ہو» یعنی طواف کے دوران بات کرنے کی اجازت دی گئی ہے، لیکن اسے بھی اپنے اس فرمان میں مقید فرمایا ہے: «چنانچہ جو اس دوران بات کرے تو وہ صرف خیر کی بات ہی کرے» اس سے تنبیہ مقصود ہے کہ طواف کا اصل مقصد ذکر اور دعا میں مشغول رہنا ہے اور اگر کلام کرنا ہو تو صرف ضرورت کے مطابق کیا جائے۔ لغو گوئی اور بے فائدہ باتوں سے مکمل پرہیز ہو۔
حدیث مبارک میں طواف کرنے والے کے لیے عبادت کے آداب اختیار کرنے کی راہنمائی کی گئی ہے، یعنی دل کی حاضری، جگہ کی تعظیم، ذکر کی پابندی اور ہر اُس چیز سے اجتناب جو اجر میں کمی کرے یا خشوع کو زائل کردے، تاکہ بندے کا طواف قبولیت کے زیادہ قریب اور اجر وثواب کے اعتبار سے زیادہ عظیم الشان ہو۔