جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«روزہ ایک ڈھال ہے جس سے بندہ خود کو جہنم کی آگ سے بچاتا ہے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ معجم کبیر طبرانی (حدیث نمبر 8386)، سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 1639) اور سنن نسائی (حدیث نمبر 2230) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ معجم کبیر طبرانی کے ہیں ۔
جبکہ مسند احمد (حدیث نمبر 14669) اور شعب الایمان بیہقی (حدیث نمبر 3292) میں یہ حدیث بروایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 3867) اور صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 981) ۔ 


حدیث کی مختصر وضاحت


روزہ ایک عظیم الشان عبادت ہے جو اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کرنے کے بہترین طریقوں میں سے ایک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے فضلِ عظیم سے نوازا اور اسے بندے کے لیے دنیا وآخرت میں بچاؤ اور حفاظت کا ذریعہ بنایا۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ شان ومنزلت اپنے اس فرمان میں بیان فرمائی ہے: «روزہ ایک ڈھال ہے جس سے بندہ خود کو جہنم کی آگ سے بچاتا ہے۔»
یعنی یہ ایک محفوظ حصار اور مضبوط حفاظتی قلعہ ہے جو روزہ دار کو ہلاکت کے اسباب سے بچاتا ہے، چنانچہ اسے خواہشاتِ نفس سے روکتا ہے اور حرام کاموں سے باز رکھتا ہے کیونکہ روزہ شہوت کی طاقت کو توڑتا ہے، اس لیے دنیا میں گناہوں سے اور آخرت میں جہنم کے عذاب سے بچاؤ کا سبب بنتا ہے۔
اس کی مزید تائید نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے ہوتی ہے: «…جو شادی کی استطاعت نہ رکھے تو وہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کے لیے شہوت شکن ہے۔» اس لیے کہ روزے میں شہوت کو توڑنے کی خاصیت ہے اور یہی شہوت بندے پر شیطان کے بڑے راستوں میں سے ایک ہے، چنانچہ جب ایک مسلمان روزے کے ذریعے اپنے نفس کو قابو میں رکھتا ہے اور اسے ہر اُس چیز سے محفوظ رکھتا ہے جو اس کے اجر میں کمی کا باعث ہے تو اس کا روزہ اس کے لیے آگ سے پردہ بن جاتا ہے۔ اسی بنا پر روزے کا اجر عظیم الشان رکھا گیا ہے، حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا: «روزے کو لازم پکڑو کیونکہ اس جیسی کوئی چیز نہیں!»۔
حدیث مبارک میں فضیلتِ روزہ کی عظمتِ شان بیان ہوئی ہے۔ اسی طرح یہ بیان ہوا ہے کہ روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس کا اثر بندے کے کردار وعمل میں ظاہر ہوتا ہے، جو دنیا میں گناہوں سے بچاؤ کا سبب بنتی ہے اور قیامت کے دن آگ سے حفاظت کا ذریعہ ہوگی۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔