«رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے میں ’’وصال‘‘ سے روکا تو ایک مسلمان نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ تو وصال کرتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کون میرے جیسا ہے؟ میں اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔ جب لوگ ’’وصال‘‘ سے باز نہ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو دن تک وصال کیا، پھر لوگوں نے نیا چاند دیکھ لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چاند مزید تاخیر سے نظر آتا تو میں تمہارے لئے (وصال کو) اور بڑھا دیتا (آپ نے یہ بات فرمائى)ان کے لیے سزا کے طور پر جب وه (صوم وصال كو) ترك کرنے پر آمادہ نہ ہوئے»۔
یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 1965) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1103) میں ہے۔مذکورہ الفاظ صحیح بخاری کے ہیں ۔
صحیح بخاری (حدیث نمبر 1966) کے الفاظ یوں ہیں: «نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبار فرمایا کہ تم لوگ وصال سے بچو ... تم عمل کی اتنی ہی مشقت اٹھاؤ جتنی تم طاقت رکھتے ہو۔»۔
علاوہ ازیں بروایت حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 1967) کے یہ الفاظ ہیں: «اور اگر کسی کا ارادہ وصال کا ہو تو وہ سحری تک وصال کر لے۔»۔
حدیث کی مختصر وضاحت
عبادات میں بنیادی اصول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور ان کے اقوال وافعال کی پیروی ہے، البتہ بعض عبادات امت کی بجائے صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص تھیں۔ ان میں سے ایک کی بابت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے میں ’’وصال‘‘ سے منع فرمایا ہے۔ وصال سے مراد ایک دن کے روزے کو بغیر افطار کے اگلے دن کے روزے سے ملا کر مسلسل رکھنا ہے۔ وصال سے منع کیا گیا ہے کیونکہ یہ امت پر مشقت کا باعث ہے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ دین میں غلو اور تشدد کی طرف لے جائے، جبکہ شریعت کی بنیاد آسانی اور مکلفین سے تنگی ومشکل کو دُور رکھنا ہے۔
بعدازاں کسی صحابی نے، جن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کو سمجھنا مشکل کا باعث بنا، تفہیم کی غرض سے یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ تو وصال کرتے ہیں؟
اور یہ سوال اعتراض کے طور پر نہیں تھا، بلکہ تفہیم اور حکم یا حکمت کو واضح طور پر جاننے کی غرض سے تھا۔
چنانچہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ وصال کا روزہ آپ ﷺ کی خصوصیات میں سے ہے اور اللہ کی طرف سے آپ کوخاص مدد ملتی ہے، چنانچہ فرمایا: «میں اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔»
کھانے پینے کے معنی میں اہلِ علم کا اختلاف ہے، چنانچہ بعض کے نزدیک یہ حقیقت پر محمول ہے، یعنی اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو ایسا کھانا پینا عطا فرماتے ہیں جو غیرمعمولی ہوتا۔ اور یہ روزے کے منافی نہیں کیونکہ شرعاً روزہ توڑنے والا صرف وہی کھانا پینا ہے جو معمول کے مطابق ہو، البتہ جو خرقِ عادت ہو تو وہ اس کے حکم میں شامل نہیں۔ اور بعض کے نزدیک اس سے مراد کھلانے کے معنی ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کے دل پر ایمان کی قوت اور مناجات کی لذت اس طرح نازل فرماتا ہے جو کھانے پینے کے قائم مقام ہوجاتی۔ اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل تائید اور خصوصی امتیازات میں سے ہے۔
چنانچہ دونوں اقوال کے مطابق بھی یہ حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے۔ اور امت پر رحمت فرماتے ہوئے اور اس سے مشقت کو دُور کرتے ہوئے اُسے ایسے کسی حکم کا مکلف نہیں بنایا گیا۔
علاوہ ازیں جب بعض صحابہ نے صومِ وصال مخالفت کے ارادے سے نہیں، بلکہ یہ سمجھ کر کہ ممانعت حتمی نہیں، ترک نہ کیا تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو دن تنبیہ وتادیب کے طور پر وصال کیا، حتیٰ کہ نیا چاند نظر آگیا، پھر انھیں سخت تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا: «اگر چاند مزید تاخیر سے نظر آتا تو میں تمھیں بطور سزا (وصال میں اور) بڑھا دیتا۔» پھر روزے میں وصال کرنے والے کے لیے سحری تک وصال کرنے کی رخصت دے دی، جیساکہ دوسری روایت میں ہے۔ یہ رخصت امت پر رحمت وشفقت کے طور پرتھی، تاکہ دین میں غلو، حد سے بڑھنے اور بےجا سختی کا دروازہ بند رہے۔
اس وضاحت سے عیاں ہوجاتا ہے کہ حدیث مبارک عبادت میں اعتدال کی تلقین کرتی ہے اور یہ کہ مسلمان وہ اعمال کرے جو بغیر تکلف اور تشدد کے اس کی طاقت میں ہوں۔ اسی طرح یہ بھی واضح ہوا کہ شریعت کی بنیاد آسانی، مشقت کو دُور کرنے اور مکلفین کے حالات کی رعایت رکھنے پر ہے۔ نیز یہ معلوم ہوا کہ بعض عبادات نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہیں، لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ پر كسى اور كوقیاس نہیں کیا جاسکتا۔