«جب عشرہ (ذوالحجہ) شروع ہوجائے اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بالوں اور اپنى چمڑى کو بالکل نہ چھیڑے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا صحیح مسلم (حدیث نمبر 1977) میں مروی ہے۔
صحیح مسلم (حدیث نمبر 1977)ہی کی ایک اور روایت کے الفاظ یوں ہیں: «جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھ لو ... تو (قربانی کا ارادہ رکھنے والا) اپنے بال اور ناخن (کاٹنے) سے رک جائے۔»
حدیث کی مختصر وضاحت
قربانی کرنا سنتِ موکدہ ہے جسے تقرب الی اللہ کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کے اِحیا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر کے اظہار کے طور پر یومِ نحر اور ایامِ تشریق میں مشروع کیا گیا ہے۔ شریعت نے اس کے چند مخصوص آداب واحکام مقرر کیے ہیں جن کی پابندی کرنا قربانی کرنے والے کے لیے مستحب ہے، تاکہ اس کے عمل کا اجر زیادہ کامل اور ثواب زیادہ عظیم ہو۔
چنانچہ انھی آداب واحکام میں سے ایک یہ بھی ہے، جو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں بتایا ہے کہ جب ذوالحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہوجائے اور کوئی مسلمان قربانی کا ارادہ کرلے تو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں میں سے کسی چیز کو نہ چھیڑے (نہ کاٹے)، خواہ یہ کٹائی کم ہو یا زیادہ اور خواہ بغل کے بال ہوں یا زیرِ ناف، مونچھوں کے بال ہوں یا سر یا یا داڑھی کے، یا بدن کے دوسرے کسی بھی حصے کے بال ہوں۔ اور یہ ممانعت ہر طریقے سے ہے، چاہے اکھیڑ کر ہو، یا کاٹ کر یا مونڈ کر۔
کہا گیا ہے کہ اس ممانعت کی حکمت یہ ہے کہ احرام باندھنے والے سے مشابہت ہوجائے کیونکہ جس طرح حج یا عمرے کا احرام باندھنے والے کو عبادت مکمل ہونے تک بال اور ناخن کاٹنے سے منع کیا گیا ہے، اسی طرح قربانی کرنے والے کو بھی قربانی تک بال اور ناخن کاٹنے سے روکا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ قربانی کرنا مغفرت اور جہنم سے آزادی کا سبب ہے، اس لیے مستحب ہے کہ قربانی کرنے والا اپنے جسم کے تمام اجزاء کو کامل حالت میں رکھے، تاکہ سب کے سب جہنم کی آگ سے آزاد ہوجائیں۔
حدیث مبارک قربانی کی فضیلت پردلالت کرتی ہے اور قربانی کا ارادہ کرنے والے کے لیے بال اور ناخن کاٹنے سے رک جانے کی اہمیت واضح کرتی ہے۔ اس سے ان دنوں کی خصوصیت اور عظمتِ شان مزید نمایاں ہوجاتی ہے۔