«میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صفا ومروہ کے درمیان سعی کرتے دیکھا۔ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھےسعى کررہے تھے، یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےگھٹنوں کو تیز سعى کى وجہ سے دیکھ لیا دراں حال کہ آپ کا تہبند گھوم رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جارہے تھے: سعی کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی کو واجب قرار دیا ہے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت حبیبہ بنت ابی تجراه رضی اللہ عنہا (تاء کی پیش اور زیر کے ساتھ، جیساکہ الازہار للاردبیلی میں ہے۔ ’’الفتح‘‘ میں اسے صرف زبر کے ساتھ ضبط کیا ہے۔ ابن الملك نے اسے زبر اور زیر، دونوں کے ساتھ لکھا ہے۔ علامہ القاری نے کہا کہ پیش پڑھنا صحیح نسخوں کے مطابق ہے) مسند احمد (حدیث نمبر 27368)، صحیح ابن خزیمہ (حدیث نمبر 2764) اور مستدرک حاکم (حدیث نمبر 6943) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ مسند احمد کے ہیں۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 968) اور ارواء الغلیل (حدیث نمبر 1072)۔
حدیث کی مختصر وضاحت
صفا ومروہ اللہ تعالیٰ کے شعائر میں سے ہیں اور ان کے مابین سعی کرنا ارکانِ حج وعمرہ میں سے ایک رکن ہے۔ صفا ومروہ کے مابین سعی دورِ جاہلیت میں بھی ایک معروف عمل تھا، چنانچہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسلام قبول کیا تو مشرکین کا عمل ہونے کی وجہ سے سعی کرنے میں کچھ حرج محسوس کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی مشروعیت بیان کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی: ’’بے شک صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں۔‘‘ (البقرۃ: 158) تاکہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے دلوں سے حرج دور ہوجائے اور ثابت ہوجائے کہ یہ شعائرِ اسلام میں سے ایک شرعی عبادت ہے۔
صفا اور مروہ مکہ میں دو پہاڑیاں ہیں جن کے درمیان ایک وادی ہے جہاں حضرت ہاجر علیہا السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے پانی کی تلاش میں دوڑ لگائی تھی، چنانچہ مشروعیتِ سعی کی اصل بنیاد یہی ہے۔
اس حدیث مبارک میں حضرت حبیبہ بنت ابی تِجراه رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صفا ومروہ کے درمیان چکر لگاتے دیکھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی کے درمیان خوب سعی فرمارہے تھے، حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اِزار (نچلا کپڑا) رفتار کی شدت سے گھومنے لگا۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو سعی کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: «سعی کرو کیونکہ اللہ نے تم پر سعی کو واجب کیا ہے۔»
’’سعی‘‘ سے مراد صفا ومروہ کے درمیان سات چکر لگانا ہے۔
فرمانِ نبوی «اس نے تم پر لکھا ہے» کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر صفا ومروہ کے مابین سعی کو واجب کیا ہے کیونکہ شارع کے کلام میں لفظ ’’الکتابۃ‘‘ (لکھنا) لازم کرنے کا مفہوم رکھتا ہے۔ اور یہ حکم حج وعمرہ، دونوں کے لیے یکساں ہے۔
مَردوں کے لیے دو سبز نشانوں کے درمیان نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں دوڑنا مشروع ہے۔ آج کل اس مقام کے تعین کے لیے چھت پر سبز لائٹ پٹی لگا کر نمایاں کیا گیا ہے۔ البتہ خواتین کے لیے دوڑنا مشروع نہیں کیونکہ اس سے بے پردگی کا اندیشہ ہے، جبکہ ان کے لیے اصل سترپوشی ہے۔
حدیث مبارک سعی کے وجوب پر دلالت کرتی ہے اور یہ کہ اپنی مخصوص جگہ پر دوڑنا مسنون ہے۔ اگر کوئی شخص سعی میں عام چال سے چلے اور دوڑے نہ تو اس کی سعی بالاجماع درست ہے۔
سعی کے چند فوائد یہ ہیں: توکل کے حقیقی معانی سمجھ آتے ہیں، حتی الاسباب کوشش جاری رکھنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ پر حسنِ اعتماد رکھنا چاہیے۔