بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا تھا، پھر اس کے بعد فرمایا کہ کھاؤ اور زادِ راہ بناؤ اور ذخیرہ کرلو۔»


يہ حدیث بروایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 1719) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1972) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔
سنن ابوداود (حدیث نمبر 2813) میں حضرت نُبَيْشَہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں یوں ہے: «ہم نے تم لوگوں کو تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے اس لیے منع کیا تھا کہ وہ تم سب کو ملے۔ اب اللہ تعالیٰ نے گنجائش دے دی ہے تو کھاؤ، ذخیرہ کرلو اور اور (دوسروں کو دے کر) ثواب کماؤ۔»


حدیث کی مختصر وضاحت


قربانی اسلام کے نمایاں شعائر میں سے ہے۔ یہ ایک عظیم الشان عبادت ہے جس کے ذریعے مسلمان یومِ نحر اور ایامِ تشریق میں خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کے اِحیا، اللہ عزوجل کے حکم کی تعمیل، اس کی نعمتوں پر شکر ادا کرتے اور اس کی حرمتوں کی تعظیم کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے۔
اس حدیث میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کے گوشت کو ذخیرہ کرنے سے منع فرمایا، تاکہ مال دار لوگ فقراء کو بھی (عید کی خوشیوں میں) شامل کریں۔ یہ اِسلامی شریعت کے کمال کی ایک واضح دلیل ہے کہ وہ لوگوں کے حالات اور ان کی مصلحتوں کا لحاظ رکھتی ہے کیونکہ یہ ممانعت مطلق اور دائمی نہیں تھی، بلکہ ایک عارضی سبب کی بنا پر تھی اور وہ سبب یہ تھا کہ مدینہ منورہ میں کچھ فقراء کی آمد ہوئی جو قحط کا شکار تھے تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ وہ ضرورت مندوں کو بھی (عید کی خوشیوں میں) شامل کرلیں، اس لیے تین دن سے زیادہ قربانی کے گوشت کو ذخیرہ کرنے سے منع فرمایا، تاکہ عطیہ اور صدقہ زیادہ ہو۔
پھر جب وہ سبب ختم ہوگیا اور حالات میں فراخی آگئی تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں کھانے، ذخیرہ کرنے اور توشہ لینے کی اجازت دے دی۔ اسی لیے حدیث شریف میں آیا ہے: «کھاؤ، توشہ لو اور ذخیرہ بھی کرو۔» اسی معنی کی دلالت حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت نُبَیشَہ رضی اللہ عنہما کی احادیث سے بھی ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وسعت عطا فرما دی تھی۔
«الضحایا» سے مراد وہ جانور ہیں جو یومِ نحر اور ایامِ تشریق میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے ذبح کیے جاتے ہیں۔ اور الفاظِ روایت ہیں: «تین دن کے بعد» یعنی ایامِ تشریق کے بعد، جیساکہ صحیح بخاری میں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث ہے کہ «ہم منیٰ میں تین دن سے زیادہ اپنی قربانی کے جانوروں کا گوشت نہیں کھاتے تھے۔»
حدیث مبارک اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ شرعی احکام بندوں کی مصلحتوں کی رعایت رکھتے ہیں اور یہ کہ احکامِ شرع اپنی علت کی وجہ سے وجود وعدمِ وجود میں گردش کرتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلامی شریعت کی بنیاد رحمت اور آسانی پر ہے، نہ کہ تنگی اور مشقت پر۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔