«اللہ تبارک وتعالیٰ کے نزدیک سب سے عظیم دن یومِ نحر ہے، پھر ’’یوم القر‘‘ ہے۔» (راویِ حدیث) عیسیٰ کہتے ہیں کہ ثور نے کہا کہ ’’یوم القر‘‘ قربانی کا دوسرا دن ہے۔ «اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پانچ یا چھ اونٹنیاں لائی گئیں تو ان میں سے ہر ایک آگے بڑھنے لگی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس سے ابتدا کریں گے۔ جب وہ پہلو کے بل گرگئیں (ذبح ہوگئیں) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے کچھ فرمایا جو میں نہ سمجھ سکا تو میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ کہا: جو ان میں سے لینا چاہے، وہ لے سکتا ہے»
یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن قُرط رضی اللہ عنہ مسند احمد (حدیث نمبر 19075)، سنن ابوداود (حدیث نمبر 1765) اور سنن کبریٰ نسائی (حدیث نمبر 4083) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ سنن ابوداود کے ہیں۔
نیز ملاحظہ ہو تحقیق مشکاۃ المصابیح (حدیث نمبر 2643)، صحیح سنن ابوداود (حدیث نمبر 1549)۔
حدیث کی مختصر وضاحت
یہ حدیث مبارک یومِ نحر (عیدالاضحی کے دن) اور یومِ قَر (قربانی کے دوسرے دن) کی فضیلت اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کے عظیم الشان مرتبے کو بیان کرتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان دو دنوں کو حج کے سب سے بڑے شعائر کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ ان دو دنوں میں بندگی کی قابلِ تعریف خصوصیات ظاہر ہوتی ہیں، حرماتِ الٰہی کی تعظیم کی جاتی ہے، اعمالِ تقرب کا قیام عمل میں آتا ہے، اطاعت کا اظہار ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا جاتا ہے۔ بلکہ اہلِ علم کی ایک جماعت اس بات کی قائل ہے کہ یومِ نحر، جو دس ذوالحجہ کا دن ہے، علی الاطلاق تمام دنوں سے زیادہ عظیم دن ہے کیونکہ اسی دن حج کے تمام اہم کام کیے جاتے ہیں، جیسے: قربانی، طوافِ افاضہ، رمیِ جمرات وغیرہ۔ نیز یہی وہ دن ہے جس میں تمام علاقوں میں قربانیوں اور ہدی کے جانوروں کا خون بہایا جاتا ہے۔ اس کے بعد فضیلت میں ’’یومِ قَر‘‘ آتا ہے جو یومِ نحر کے بعد والا دن اور ایامِ تشریق کا پہلا دن ہے۔ اسے ’’یومُ القَرّ‘‘ (ٹھہرنے کا دن) اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس دن حجاج منیٰ میں ٹھہر جاتے ہیں اور اہم ترین مناسکِ حج ادا کرنے کے بعد وہاں قیام کرتے ہیں۔
یہ حدیث مبارک نبوی کرامت کا ایک گوشہ اور اُن نشانیوں کا ایک پہلو ظاہر کرتی ہے جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید فرمائی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قربانی کى اونٹنیاں پیش کی گئیں تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہونے لگیں اور ایک دوسرے سے سبقت لے جانے لگیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسے نحر کرنے سے ابتدا فرمائیں۔ یہ سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حصولِ برکت کی خواہش کا اظہار تھا۔ پھر جب انھیں ذبح کردیا گیا اور اپنے پہلو کے بل زمین پر گرگئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ان میں سے لینا چاہے، وہ لے سکتا ہے۔»
اسی طرح یہ حدیث مبارک اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اجازت کے بعد قربانی اور ہدی کے گوشت میں سے حصہ لینا جائز ہے۔
حدیث شریف میں ان دو عظیم الشان دنوں کی فضیلت، ان میں اللہ تعالیٰ کے شعائر کی تعظیم، نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بلند مقام اور اُن ظاہری کرامات کا بیان ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خاص فرمایا ہے۔