«جس تلبیہ پکارنے والے نے بھی تلبیہ پکارا، اسے ضرور بشارت دی گئی اور جس تکبیر کہنے والے نے بھی تکبیر کہی، اسے ضرور بشارت دی گئی۔» پوچھا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جنت کی بشارت؟ فرمایا: «ہاں۔»
یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ معجم اوسط طبرانی (حدیث نمبر 7779) اور معجم کبیر طبرانی (حدیث نمبر 974) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 5569) اور صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 1137)۔
حدیث کی مختصر وضاحت
اللہ تعالیٰ نے حج وعمرے میں تلبیہ اور تکبیر کو مشروع فرمایا اور انھیں ان دونوں عبادات کے نمایاں شعائر میں سے قرار دیا۔ یہ دونوں توحید کا اعلان، اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور افضل ترین اذکار میں سے ہیں جن کا اجر بہت عظیم الشان ہے۔
اس حدیث مبارک میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ وتکبیر کی فضیلت بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: «جس تلبیہ پکارنے والے نے بھی تلبیہ پکارا اور جس تکبیر کہنے والے نے بھی تکبیر کہی تو اسے بشارت دی گئی۔»
’’اِہلال‘‘ سے مراد بلند آواز سے تلبیہ پکارنا ہے جو توحید کا اعلان اور اللہ تعالیٰ کے حکم پر لبیک کہنے کا اظہار ہے۔ اور تکبیر سے مراد «اللہ اکبر» کہنا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور کبریائی کا اظہار ہے۔
آپ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان: «اسے ضرور بشارت دی گئی» چنانچہ اس بشارت کے بارے میں سوال کیا گیا کہ کیا یہ بشارت جنت کی ہے؟ تو فرمایا: «ہاں۔» یہ اس بات کے ثبوت کی صریح دلیل ہے کہ تلبیہ پڑھنے والے اور تکبیر کہنے والے کے لیے جنت کی بشارت ہے، بالخصوص حج اور عمرے کے موقع پر۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فضیلت ہر وقت کے لیے عام ہے۔
تکبیر ہر وقت مشروع ہے اور بحالتِ احرام اس کی تاکید بڑھ جاتی ہے، جبکہ تلبیہ اِحرام کے ساتھ مخصوص ہے، چنانچہ اس کا وقت اِحرام باندھنے سے شروع ہوتا ہے اور یومِ نحر (دس ذوالحجہ) کو جمرۂ عقبہ کی رمی پر ختم ہوتا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ تلبیہ کہنا ہمہ وقت مشروع ہے۔
حدیث مبارک میں تلبیہ اور تکبیر کی فضیلت اور تلبیہ وتکبیر کہنے والوں کے لیے جنت کی بشارت ہے۔ اسی طرح حدیث شریف اظہارِ توحید اور تعظیمِ باری تعالیٰ کی غرض سے تلبیہ وتکبیر بلند آواز سے ادا کرنے کی مشروعیت پر بھی دلالت کرتی ہے۔