«روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے لیے شفاعت کریں گے۔ روزہ کہے گا: اے میرے پروردگار! میں نے اسے دن بھر کھانے پینے اور شہوتوں سے روکے رکھا، پس اس کے بارے میں میری شفاعت قبول فرما۔ اور قرآن کہے گا: میں نے اسے راتوں کو نیند سے روکا، پس اس کے بارے میں میری شفاعت قبول فرما۔ فرمایا: تو دونوں کی شفاعت قبول کرلی جائے گی۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما مسند احمد (حدیث نمبر 6626)، مستدرک حاکم (حدیث نمبر 2036)، معجم کبیر طبرانی (حدیث نمبر 88) اور شعب الایمان از بیہقی (حدیث نمبر 1839) میں مروی ہےمذکورہ الفاظ مسند احمد کے ہیں۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 3882) اور صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 984)۔
حدیث کی مختصر وضاحت
نیک اعمال میں کچھ اعمال قیامت کے دن بندے کے لیے شفاعت کا سبب بنیں گے، یعنی ایسی حقیقی شفاعت جو اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں گے۔ ان اعمال میں روزہ اور (تلاوتِ) قرآن بھی شامل ہیں جب یہ دونوں اعمال اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ادا کیے جائیں۔
لفظ ’’صوم‘‘ (روزہ) جب مطلقاً بولا جائے تو اس سے مراد ماہِ رمضان کے روزے ہوتے ہیں اور اگر اس کے ساتھ نفلی روزے بھی ملا لیے جائیں تو یہ حال کے اعتبار سے زیادہ کامل اور اجر کے اعتبار سے زیادہ عظیم الشان ہوتا ہے۔
اور ’’قرآن‘‘ سے مراد رات کے وقت اُس کی تلاوت ہے جب لوگ سو رہے ہوں، خواہ یہ تلاوت نماز میں ہو یا نماز کے علاوہ۔
چنانچہ روزہ بندے کے حق میں یہ گواہی دے گا کہ اس نے بندے کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں (دن کے وقت) کھانے پینے اور شہوتوں سے روکے رکھا۔ اور قرآنِ کریم اس کے حق میں یہ گواہی دے گا کہ اس نے قیام اور تلاوت میں مشغول رکھ کر رات کی نیند سے اسے روکے رکھا۔ پھر یہ دونوں اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے کہ وہ اس بندے کے بارے میں ان کی شفاعت قبول فرما لے، چنانچہ اللہ عزوجل ان دونوں کی شفاعت قبول فرما لے گا۔
نبى صلى اللہ علیہ وسلم کے فرمان: «روزہ کہے گا ... اور قرآن کہے گا» میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اعمال کو مجسم شکل بنائے گا اور انھیں بولنے اور گواہی دینے کی صلاحیت عطا فرمائے گا، جیسے بعض اعضاء کو زبان دی جائے گی جو اپنے صاحب کے خلاف یا اس کے حق میں گواہی دیں گے اور جیسے موت کو مینڈھے کی صورت میں لایا جائے گا اور جنت اور جہنم کے درمیان اسے ذبح کیا جائے گا۔
اس حدیث مبارک میں روزے اور قرآن کو یکجا ذکر کرنے کی حکمت یہ بیان کی گئی ہے کہ روزہ عموماً قیام اللیل اور قرآن کی تلاوت کے ساتھ لازم وملزوم ہوتا ہے۔ تو گویا یہ دونوں عمل میں بھی ایک دوسرے کے ساتھی ہیں اور شفاعت میں بھی ساتھی ہوں گے۔ یہ شفاعت روزے اور قیام کی عظمتِ شان اور قیامت کے دن ان کے عظیم الشان اثرات پر دلالت کرتی ہے۔