بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«میں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک گھوڑا دیا تھا، مگر جس کے پاس تھا، اس نے اسے ضایع کردیا۔ تو میں نے اسے واپس خریدنے کا ارادہ کیا اور یہ گمان رکھا کہ وہ اسے سستا بیچے گا۔ چنانچہ میں نے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ خریدو اور نہ اپنے صدقے میں واپس جاؤ، خواہ وہ تمھیں ایک درہم ہی میں کیوں نہ دے کیونکہ اپنے صدقے میں واپس لوٹنے والا شخص اپنے قے میں واپس لوٹنے والے کے مانند ہے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عمر رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 1490) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1620) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ صحیح بخاری کے ہیں۔
صحیح بخاری (حدیث نمبر 2623) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1620) کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: «جیسے کتا اپنی قے کی طرف لوٹتا ہے۔»


حدیث کی مختصر وضاحت


اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کرنا خیر کے عظیم الشان دروازوں میں سے ہے جس پر شریعت نے متوجہ فرمایا اور اس کی ترغیب دی ہے اور صدقہ کرنے والے کے لیے بہت بڑے اجر وثواب کا وعدہ فرمایا ہے۔
اس حدیث مبارک میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک گھوڑا صدقہ کیا تھا «تو جس شخص کے پاس وہ گھوڑا تھا، اس نے اسے ضایع کردیا» یعنی اس کی اچھی دیکھ بھال نہ کی۔ اس پر محنت اور اس کی خدمت کرنے میں کوتاہی کی، چنانچہ گھوڑا ایسی حالت کو پہنچ گیا کہ اس سے فائدہ اُٹھانا ممکن نہ رہا۔ گھوڑے کے مالک نے اسے فروخت کرنے کا اِرادہ کرلیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: «چنانچہ میں نے اسے خریدنے کا ارادہ کرلیا» ان کا گمان تھا کہ گھوڑے کی دوبارہ خرید صدقے میں واپس لوٹنا شمار نہیں ہوگی۔ تو انھوں نے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرماتے ہوئے انھیں منع فرمادیا: «اسے نہ خریدو اور اپنے صدقے میں واپس نہ لوٹو۔» پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہوا صدقہ خریدنے کو بھی صدقے میں واپس لوٹنا قرار دیا ہے کیونکہ جب خریدار خود صدقہ دینے والا ہو تو یقیناً اسے قیمت میں رعایت دی جائے گی تو یوں وہ اپنے صدقے کا کچھ حصہ واپس لینے والا ہوگا، بلکہ اگر وہ اسے اس کی اصل قیمت سے زیادہ قیمت میں بھی خریدے (تب بھی حکم یہی ہوگا) کیونکہ اصل اعتبار اس بات کا ہے کہ وہ چیز اللہ تعالیٰ کے لیے نکالی جاچکی ہے، اس لیے اس میں کسی حال میں بھی واپسی جائز نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ممانعت کی مزید تاکید کرتے ہوئے فرمایا: «خواہ وہ تمھیں ایک درہم ہی میں کیوں نہ دے» یعنی اس معاملے میں اپنی خواہش بالکل ختم کردو اور کم قیمت کی طرف التفات بھی نہ کرو، بلکہ اس بات کو پیشِ نظر رکھو کہ یہ صدقہ ہے جسے اللہ تعالیٰ کے لیے نکالا گیا تھا۔
پھر نبیِ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقے میں واپس لوٹنے والے کو اپنی قے میں لوٹنے والے جیسا قرار دیا ہے، چنانچہ صحیحین (صحیح بخاری ومسلم) میں ہے: «اپنے صدقے میں واپس لوٹنے والا شخص کتے کے مانند ہے جو اپنی قے میں واپس لوٹتا ہے۔» یہ سخت ممانعت اور نفرت دلانے کے لیے مبالغے کے طور پر فرمایا گیا ہے، چنانچہ جس طرح یہ نہایت قبیح فعل ہے کہ انسان قے کرے، پھر اپنی ہی قے کی طرف واپس لوٹے اور اسے کھا لے، یا جیسے کتا قے کرتا ہے اور پھر اپنی قے کی طرف پلٹ آتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی نہایت قبیح فعل ہے کہ انسان صدقہ کرے یا تحفہ دے اور پھر اپنے صدقے یا تحفے کی طرف واپس لوٹ آئے، خواہ خریدنے ہی کی صورت کیوں نہ ہو! یہ انتہا درجے کی قبیح تشبیہ ہے جسے اس فعل کی شناعت بیان کرنے اور اس سے نفرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے۔
حدیث مبارک دلالت کرتی ہے کہ نیک عمل کو ہر اُس چیز سے محفوظ رکھنا واجب ہے جو اسے فاسد کرے یا اس کے اجر کو گھٹا دے، نیز یہ کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے صدقہ یا تحفہ دے دے، اس پر لازم ہے کہ وہ اس سے مکمل طور پر اپنا تعلق اور طمع ختم کر دے۔ اسی طرح یہ حدیث قبضے میں لے لینے کے بعد تحفہ واپس لینے کی حرمت پر دلالت کرتی ہے، سوائے وارد شدہ استثنا کے، یعنی والد اپنی اولاد کو دی ہوئی چیز واپس لے سکتا ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔