ایک شخص نے بکری کو ذبح کرنے کے ارادے سے لٹایا اور اپنی چھری تیز کرنے لگا۔ نبیِ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «کیا تم اسے کئی بار مارنا چاہتے ہو؟! تم نے اسے لٹانے سے پہلے اپنی چھری کیوں نہ تیز کی؟»
یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مستدرک حاکم (حدیث نمبر 7563)، معجم اوسط طبرانی (حدیث نمبر 3590)، معجم کبیر طبرانی (حدیث نمبر 11916) سنن کبریٰ بیہقی (حدیث نمبر 19141) میں مروی ہے۔ اور طبرانی اور بیہقی کے یہاں یہ اضافہ ہے: «اور وہ اپنی نگاہوں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔»
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 93) اور صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 1090)۔
حدیث کی مختصر وضاحت
اسلامی شریعت کے کمال اور مخلوقات پر اس کی ہمہ گیر رحمت کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس نے جانوروں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے، حتیٰ کہ انھیں ذبح کرتے وقت بھی۔ اور ہر اُس عمل سے منع فرمایا ہے جو جانور کو خوف زدہ کرنے یا اذیت پہنچانے کا سبب بنے، تاکہ اس رحمت کے حقیقی مفہوم کا اظہار ہو جس کے ساتھ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا گیا۔
اس حدیث مبارک میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بتاتے ہیں کہ «نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جس نے ایک بکری کو ذبح کرنے کے ارادے سے لٹا رکھا تھا اور وہ اپنی چھری تیز کر رہا تھا۔» یعنی اس نے ذبح کی تیاری کرتے ہوئے اسے اس کے دونوں پہلوؤں پر لٹا دیا۔ ’’شَفْرہ‘‘ سے مراد چھری ہے اور ’’حد الشفرۃ‘‘ یعنی اسے کسی ایسی چیز سے تیز کرنا جس سے اس کی دھار بن جائے۔ ایک اور روایت میں یوں ہے: «اور وہ اپنی نگاہوں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔» تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نکیر کی اور فرمایا: «کیا تم اسے کئی بار مارنا چاہتے ہو؟!»
اس لیے کہ جانور کو لٹا کر اس کے سامنے چھری ظاہر کرنا اور اسے تیز کرنا، جبکہ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہو، اس کے لیے خوف اور اذیت کا باعث بنتا ہے، حتیٰ کہ یہ حالت اس کے لیے موت کے مانند ہوجاتی ہے۔ پھر نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شرعی آداب سکھلاتے ہوئے فرمایا: «تم نے اسے لٹانے سے پہلے اپنی چھری کیوں نہ تیز کی؟!» نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو اس لیے ملامت کیا کیونکہ اس نے زیادہ کامل طریقہ اختیار نہیں کیا اور پھر اسے آئندہ کے لیے حسنِ سلوک اور بہتر طرزِ عمل کی ترغیب دی۔ ایک اور حدیث میں یوں آیا ہے: «بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں حسنِ سلوک کو لازم قرار دیا ہے، چنانچہ جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو اور تم میں سے ہر کوئی اپنی چھری تیز کرے اور اپنے ذبیحے کو آرام پہنچائے۔»
حدیث مبارک میں اسلامی شریعت کی بلندی اور اس کے کمال کی دلیل ہے کہ اس نے حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے، حتیٰ کہ جانوروں کے ساتھ بھی۔ شریعت نے ہر اُس چیز سے منع فرمادیا ہے جس میں ان کے لیے اذیت یا خوف ہو، جیسے: ذبیحے کو لٹانے سے پہلے چھری تیز کرنا، چھری کو جانور کی نگاہوں سے اوجھل رکھنا اور جانور کو راحت پہنچانے کا ارادہ رکھنا۔ یہی وہ بات ہے جس کا حکم دیگر نصوص میں بھی آیا ہے جو قتل اور ذبح کے وقت حسنِ سلوک کی تاکید کرتی ہیں۔