بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«ایک درہم ایک لاکھ درہموں پر سبقت لے گیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: وہ کیسے؟ فرمایا: ایک شخص کے پاس دو درہم تھے، اس نے ان میں سے ایک درہم صدقہ کردیا اور دوسرا شخص اپنے مال کے ڈھیر کی طرف گیا، اس میں سے ایک لاکھ درہم پکڑا اور اسے صدقہ کر دیا۔»


یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مسند احمد (حدیث نمبر 8929)، سنن نسائی (حدیث نمبر 2527)، صحیح ابن خزیمہ (حدیث نمبر 2443)، صحیح ابن حبان (حدیث نمبر 3347) اور مستدرک حاکم (حدیث نمبر 1519) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ سنن نسائی کے ہیں۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 3606) اور صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 883)۔


حدیث کی مختصر وضاحت


اس حدیث مبارک میں یہ بیان ہوا ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نفوسِ انسانی کی تربیت کے لیے خرچ اور ایثار وقربانی کے جذبے کو کس قدر اہمیت دی ہے اور ساتھ ہی اس حقیقت کی طرف متوجہ فرمایا کہ خرچ کرنے کا اجر مال کی کثرت کے مطابق نہیں ملتا، بلکہ نیت کے اخلاص، اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور اس پر توکل سے متعین ہوتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان «ایک درہم ایک لاکھ درہموں پر سبقت لے گیا» یعنی یہ سبقت مقدار میں نہیں، بلکہ ثواب اور قبولیت میں ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے اسے سمجھنا مشکل ہوگیا کیونکہ ایک درہم تو نہایت قلیل ہے، جبکہ ایک لاکھ درہم بہت بڑی رقم ہے۔ تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تفاوت کی وجہ یوں بیان فرمائی کہ دونوں میں سے ایک شخص کی کل دولت دو درہم تھی تو اس نے ان دو میں سے بھی ایک درہم صدقہ کر دیا، چنانچہ اس طرح اس نے اپنا آدھا مال خرچ کردیا، حالانکہ اسے خود اس مال کی شدید ضرورت تھی۔ جبکہ دوسرا شخص بہت زیادہ مال کا مالک تھا تو اس نے اپنے مال کے ذخیرے میں سے صرف ایک لاکھ درہم صدقہ کیے، مگر یہ صدقہ اس کی اصل معیشت اور ضروریات کو متاثر کیے بغیر محض زائد مال سے تھا۔ بنابریں محتاج اور کم مال والے کا صدقہ اجر کے اعتبار سے مال دار کے صدقے سے زیادہ عظیم ٹھہرا کیونکہ فقیر شدید تنگی اور اپنی ضرورت کے باوجود صدقہ کرتا ہے جس سے اس کے حق میں ایثار کی اعلیٰ ترین صورت ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے برعکس مال دار جب اپنے اضافی مال سے صدقہ کرتا ہے تو اس کے عمل میں وہ درجۂ اِیثار پیدا نہیں ہوتا جو کم استطاعت والے کے صدقے میں پایا جاتا ہے۔
حدیث مبارک میں اس بات پر دلالت ہے کہ شدید تنگی اور ضرورت کے وقت دیا جانے والا صدقہ مال دار کے بڑے سے بڑے صدقے سے بھی اجر میں بڑھ کر ہوسکتا ہے، خواہ کئی گنا زیادہ کیوں نہ ہو!
علاوہ ازیں اس میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک لطیف اشارہ اور (تربیتی) تنبیہِ بلیغ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جذبات کو ابھارا، انھیں صدقہ وخیرات پر آمادہ کیا اور یہ اصول ذہن نشین فرمایا کہ فضیلت کا معیار مال کی کثرت نہیں، بلکہ نیت میں خلوص، خرچ میں صداقت اور ایثار میں عظمت ہے۔


غلطی کی اطلاع دیں۔