بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے اور روزے کی حالت میں باستثنائےجماع جسمانی قربت فرماتے تھے، لیکن وہ اپنی خواہش پر تم سب سے زیادہ قابو رکھنے والے تھے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا صحیح بخاری (حدیث نمبر 1927) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1106) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔ 


حدیث کی مختصر وضاحت


چونکہ روزہ ایک عظیم الشان عبادت ہے، اس لیے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جلیل القدر عبادت سے متعلق تمام ضروری امور میں اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کی تعلیم وتربیت کا خاص اہتمام کیا اور یہ واضح فرمایا کہ روزے کی حالت میں کون سے امور جائز ہیں اور کون سے ناجائز، خواہ وہ گفتگو سے متعلق ہوں یا افعال سے۔ انھی امور میں ازدواجی معاملات کا بیان بھی شامل ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ «رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ دیتے تھے اور جسمانی قربت فرماتے تھے۔» یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کے ساتھ بوس وکنار اور ایسی جسمانی قربت فرماتے تھے جو جماع کے علاوہ ہوتی ہے، چاہے روزہ فرضی ہوتا یا نفلی۔ تو معلوم ہوا کہ روزہ بوسہ لینے یا ایسی جسمانی قربت سے مانع نہیں ہے، حالانکہ جسمانی قربت بوسے سے زیادہ شہوت کو انگیخت دینے والی ہوتی ہے، تاہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نہایت اہم نکتے کی طرف توجہ دلائی کہ بوس وکنار اور جسمانی قربت ایسے امور ہیں جو روزہ فاسد ہونے کا سبب بن سکتے ہیں کیونکہ جسمانی قربت کے وقت انسان بعض اوقات اپنے نفس پر قابو نہیں رکھ پاتا۔ اسی لیے انھوں نے فرمایا: «لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم سب سے زیادہ اپنی خواہش پر قابو رکھنے والے تھے۔» اس لفظ کو ’’اِرْبِہِ‘‘ اور ’’اَرَبِہِ‘‘ دونوں طرح پڑھا گیا ہے۔ اگر ہمزہ پر زیر ہو تو اس سے مراد عضو ہے اور اگر ہمزہ اور راء پر زبر ہو تو مراد خواہش اور نفس کی ضرورت ہے۔ دونوں صورتوں میں معنی ایک ہی بنتے ہیں، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم سب سے زیادہ اپنے نفس پر پوری طرح قابو رکھنے والے اور اپنی خواہش وضرورت پر سب سے زیادہ اختیار رکھنے والے تھے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش پر (مغلوب ہونے کی بجائے) غالب رہتے تھے اور یہ چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس امر کی طرف نہیں کھینچ سکتی تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کو فاسد کردے۔
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حکم نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ امت کے لیے عام شرعی حکم ہے، بشرط کہ انسان اپنے روزے کے محفوظ رہنے پر مطمئن ہو۔ لیکن اگر کسی کو یہ اندیشہ ہو کہ یہ اجازت اسے جماع یا انزال تک لے جائے گی تو اس کے لیے یہ اعمال حرام ہوجائیں گے کیونکہ شریعت میں وسائل کا حکم مقاصد کے تابع ہوتا ہے اور یہ بات بالخصوص رمضان کے روزوں میں زیادہ تاکیدی ہے۔
حدیث سے حاصل شدہ فوائد میں سے یہ ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے ساتھ حسنِ معاشرت رکھتے تھے، ضرورت کے وقت میاں بیوی کے باہمی معاملات کا اجمالی ذکر جائز ہے، نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال امت کے لیے شریعت کا درجہ رکھتے ہیں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت اور علم کا بیان ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔