«جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو قبول کرے، پھر اگر وہ روزے سے ہو تو دعا کرے اور اگر روزہ نہ ہو تو کھانا کھائے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ صحیح مسلم (حدیث نمبر 1431) میں مروی ہے۔
صحیح مسلم ہی کی ایک روایت (حدیث نمبر 1150) میں ہے: «تو کہہ دے: میں روزے سے ہوں۔»
بروایت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما صحیح مسلم (حدیث نمبر 1429) کی ایک حدیث کے الفاظ یوں ہیں: «جب تم میں سے کسی کو ولیمے کی دعوت دی جائے تو قبول کرے۔»
اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1430) میں بروایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ یہ بھی مروی ہے: «اگر چاہے تو کھا لے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔»
حدیث کی مختصر وضاحت
دینِ اسلام باہمی اُلفت ومحبت کی ترغیب کے لیے آیا ہے جس کے اسباب میں سے ایک سبب دعوت قبول کرنا ہے۔ یہ مسلمانوں کے درمیان باہمی حقوق میں سے ہے، چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو قبول کرے» یعنی اگر ولیمے کی دعوت دی جائے یا کوئی اور جائز دعوت دی جائے تو دعوت ضرور قبول کرے۔ «اگر وہ روزے سے ہو تو دعا کرے» یعنی وہ حاضر ہو کر میزبانوں کے لیے برکت اور نعم البدل کی دعا کرے اور یہی اس فرمان کے معنی ہیں کہ «تو وہ دعا کرے۔» ایک دوسری روایت میں آیا ہے: «تو وہ کہے: میں روزے سے ہوں۔» یعنی وہ یہ بات میزبان کے سامنے اپنے عذر کے طور پر کہے، تاکہ اس کے متعلق کوئی بدگمانی پیدا نہ ہو۔ یہ حکم اس صورت میں ہے جب اس نے واجب روزہ رکھا ہو، جیسے: قضائے رمضان کا روزہ، نذر کا روزہ اور کفارے کا روزہ۔ تو ایسے روزے میں روزہ توڑنا جائز نہیں، بلکہ اس کا پورا کرنا لازم ہے۔ ہاں، اگر روزہ نفلی ہو تو روزے دار کو اختیار ہے کہ چاہے تو روزہ برقرار رکھے اور اسے مکمل کرے یا چاہے تو روزہ توڑ لے، البتہ افضل یہ ہے کہ وہ کھا لے، اگر اسے اس میں میزبان کی دلجوئی کا سامان نظر آئے۔ اور یہی مراد ہے اس فرمانِ نبوی سے: «اور اگر وہ روزے سے نہ ہو تو کھانا کھائے۔»
حدیث کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوتِ ولیمہ قبول کرنا واجب ہے، بشرط کہ کوئی معتبر شرعی عذر موجود نہ ہو، جیسے: کھانے میں مشتبہ چیز کا ہونا، غریبوں کو نظرانداز کرتے ہوئے دعوت کا صرف مال داروں کے لیے مخصوص ہونا، دعوت کا کسی غیرشرعی یا ناجائز مقصد کے لیے ہونا، مجلس میں کسی ایسے منکر کا پایا جانا جسے روکنے پر قدرت نہ ہو، یا کوئی اور معتبر شرعی وجوہات ہوں تو ایسی صورت میں دعوت قبول کرنا واجب نہیں رہتا۔