بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«تین مسجدوں کے سوا کسی کے لیے کجاوے نہ باندھے جائیں: مسجد الحرام، مسجدِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم (مسجد نبوی) اور مسجد اقصیٰ۔»


یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 1189) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1397) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ صحیح بخاری کے ہیں ۔


حدیث کی مختصر وضاحت


دین اسلام خالص توحید کے فروغ اور شرک وغلو تک لے جانے والے تمام راستوں کو بند کرنے کے لیے آیا ہے۔ اسی سے یہ بھی ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادت کی نیت سے کسی خاص مقام یا مسجد کی طرف شدِ رِحال (سفر کرنے) سے منع فرمایا، سوائے ان تین مساجد کے جن کی فضیلت نصوصِ شرعیہ میں واضح طور پر بیان ہوئی ہے کیونکہ ان مساجد کو شرف اور امتیاز حاصل ہے، چنانچہ مسجدِ کعبہ (بیت اللہ شریف) میں لوگوں کا حج ہوتا ہے اور یہی زندوں اور فوت شدگان کا قبلہ ہے۔ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی اور جسے خیرالبریہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تعمیر کیا۔ اور مسجد اقصیٰ سابقہ امتوں کا قبلہ ہے۔ ان تینوں مساجد کی فضیلت اسی ترتیب سے ہے، جیساکہ احادیث میں آیا ہے۔ اور اس لیے بھی کہ ثواب کی کثرت اور اَجر کے بڑھنے میں کوئی اور مسجد ان کے ساتھ شریک نہیں۔ علاوہ ازیں مسجدِ کعبہ اور مسجدِ نبوی کو شریعت میں ’’حرم‘‘ کا خاص مقام حاصل ہے، نیز ان کے ساتھ مخصوص شرعی احکام اور خاص فضائل وابستہ ہیں، جو دیگر مساجد کو حاصل نہیں اور بایں وجہ مخصوص احکام اور فضائل مترتب ہوتے ہیں۔
حدیث مبارک سے یہ بات بھی اخذ کی جاتی ہے کہ قبروں کی زیارت کو مقصد بنا کر سفر کرنا جائز نہیں۔ اس میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر بھی شامل ہے، جیساکہ بعض لوگ جب مکہ مکرمہ آتے ہیں تو خاص طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی زیارت کی نیت سے مدینہ منورہ کا سفر کرتے ہیں۔ جب یہ حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے بارے میں ہے تو دیگر قبریں، خواہ وہ اہلِ علم وفضل اور اہلِ صلاح ہی کی کیوں نہ ہوں، ان کا حکم بدرجۂ اولیٰ یہی ہوگا۔ ممانعت کی علت شرک تک لے جانے والے تمام ذرائع کی روک تھام اور اس طرف لے جانے والی تمام راہوں کو بند کرنا ہے کیونکہ کسی قبر یا مقام کی زیارت بقصد عبادت كرنا آہستہ آہستہ غلو اور شرک کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
حدیث مبارک میں دیگر تمام مساجد کے مقابلے میں تین مساجد کی فضیلت اور فضیلت میں ان تینوں کا باہمی تفاوت مذکور ہے، چنانچہ سب سے افضل مسجدِ حرام ہے، پھر مسجد نبوی اور پھر مسجد اقصیٰ۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔