بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔ اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 1196) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1391) میں مروی ہے۔


حدیث کی مختصر وضاحت


یہ حدیث مبارک اس عظیم الشان مرتبے کو بیان کرتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خاص طور پر عطا فرمایا اور اسی کے ذریعے ان کی مسجد شریف کے ایک مقام کو فضیلت بخشی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر اور منبر کے درمیان کا حصہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔
فرمانِ نبوی «میرے گھر» سے مراد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا گھر ہے، جیساکہ دوسری روایت میں اس کی دلیل موجود ہے: «میری قبر اور میرے منبر کے درمیان» اور یہ بات تو معلوم ہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں مدفون ہیں۔
فرمانِ نبوی «جنت کے باغوں میں سے ایک ہے» کے مفہوم کے بارے میں اہلِ علم رحمہم اللہ نے چند احتمالات بیان کیے ہیں:
پہلا احتمال: اس سے مراد یہ ہے کہ یہ جگہ نزولِ رحمت اور حصولِ سعات کے اعتبار سے جنت کے باغ کے مانند ہے کیونکہ یہاں ذکر کی مجالس قائم ہوتی ہیں اور علم سکھایا جاتا ہے، بالخصوص نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں۔
دوسرا احتمال: اس مقام پر کی جانے والی عبادت جنت تک پہنچادیتی ہے، لہٰذا مجازی طور پر اسے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ قرار دیا گیا۔
تیسرا احتمال: حدیث کو اس کے ظاہر پر محمول کیا جائے، یعنی مراد یہ ہے کہ یہ حقیقتاً جنت کا ایک باغ ہے اور قیامت کے دن اس مخصوص مقام کو بعینہٖ جنت میں منتقل کر دیا جائے گا، جیساکہ حجرِ اسود کے بارے میں ثابت ہے کہ وہ جنت سے آیا ہے، اور جیساکہ دریائے سَیحان اور دریائے جَیحان کے بارے میں آیا ہے کہ وہ جنت کے دریاؤں میں سے ہیں، حالانکہ وہ تو دنیا میں بھی جاری ہیں۔
فرمانِ نبوی «اور میرا منبر میرے حوض پر ہے» اس بات کا احتمال رکھتا ہے کہ منبر حقیقی طور پر اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض پر موجود ہو، جیساکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اس پر دلالت کرتا ہے: «میں اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں» اور یہ احتمال بھی رکھتا ہے کہ قیامت کے دن اسے حوض کی ایک جانب نصب کیا جائے گا۔
منبر اور حوض کو یکجا ذکر کرنے میں ان کے مابین اس گہرے ربط کی طرف لطیف اشارہ ہے کہ جس طرح دنیا میں منبر مبارک تشنگانِ علم وہدایت کا مرکز تھا، اسی طرح آخرت میں حوض تشنہ لبوں کا مرکز ہوگا۔ تو یوں ان دونوں کے مابین مناسبت واضح ہوتی ہے۔
حدیث مبارک میں اس بات کی ترغیب ہے کہ غلو سے بچتے ہوئے اور اس جگہ سے بذاتہ وابستگی رکھے بغیر اس مقام کی تعظیم کی جائے اور وہاں نیک کام بکثرت انجام دیے جائیں۔ اور سوچ یہ ہو کہ اس جگہ عبادت مشروع کی گئی ہے اور ظاہری وباطنی طور پر نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کی اتباع مقصود ہے (اس لیے اس مخصوص جگہ پر میں عبادت کر رہا ہوں)۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔