بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«ہم نبیِ کریم اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک نوجوان آیا اور عرض گزار ہوا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا میں روزے کی حالت میں بوسہ لے سکتا ہوں؟ فرمایا: نہیں۔ پھر ایک بوڑھا شخص آیا اور کہنے لگا: کیا میں روزے کی حالت میں بوسہ لے سکتا ہوں؟ فرمایا: ہاں۔ تو ہم سب نے (تعجب سے) ایک دوسرے کی طرف دیکھا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے معلوم ہے تم نے ایک دوسرے کی طرف کیوں دیکھا۔ بوڑھا آدمی اپنے نفس پر قابو رکھتا ہے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما مسند احمد (حدیث نمبر 6739) اور معجم کبیر طبرانی (حدیث نمبر 137) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ مسند احمد کے ہیں۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 1646) اور سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 1606)۔


حدیث کی مختصر وضاحت


اسلامی شریعت نے مکلَّفین کے احوال اور اُن کی مختلف صلاحیتوں کو پوری طرح ملحوظ رکھا ہے اور اسی کا ایک پہلو نفس اور شہوت کو قابو میں رکھنے سے متعلق ہے۔ اس کی مختلف مثالیں موجود ہیں جن میں سے ایک وہ ہے جس کی خبر حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے دی ہے کہ ایک نوجوان نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض گزار ہوا: «کیا میں روزے کی حالت میں بوسہ لے سکتا ہوں؟» تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «نہیں۔» یعنی تم روزے کی حالت میں ہو تو بوسہ نہ لو۔ پھر ایک عمر رسیدہ شخص آیا اور اس نے بعینہٖ وہی سوال کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے اجازت دے دی۔ اس پر بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم متعجب ہوئے کیونکہ انھیں بظاہر ایک ہی سوال کے مختلف جواب سننے کو ملے، چنانچہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے لیے اس فرق کی حکمت واضح فرمادی اور وہ یہ تھی کہ بوڑھا شخص اپنے نفس پر قابو رکھتا ہے، یعنی وہ اپنی شہوت کو روک سکتا ہے اور نوجوان کے برعکس اس کے بارے میں یہ اندیشہ نہیں کہ وہ کسی ایسے کام میں مبتلا ہوجائے گا جو روزے کو فاسد کردے، جبکہ نوجوان پر شہوت کا غلبہ زیادہ ہوتا ہے اور بوسہ لینا اُسے اِنزال تک پہنچانے کا سبب بن سکتا ہے، بلکہ عین ممکن ہے کہ اُسے جماع تک لے جائے، اس لیے اُسے اس خدشے کے تحت منع کردیا گیا کہ کہیں وہ کوئی ممنوع کام نہ کر بیٹھے۔
حدیث مبارک میں اس بات کی واضح دلیل ہے کہ شرعی احکام لوگوں کے احوال کے اعتبار سے مختلف ہوسکتے ہیں۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ اصل حکم ہی بدل جائے کیونکہ بوسہ بذاتِ خود روزہ توڑنے والی چیز نہیں ہے، لیکن چونکہ یہ روزے کو فاسد کرسکتا ہے، اس لیے جس شخص کو اپنے بارے میں خدشہ ہو تو اُس کے لیے بوسہ دینا سدِذریعہ کے طور پر ممنوع قرار دیا جائے گا اور جس شخص کو اپنے بارے میں ایسا کوئی خدشہ نہ ہو تو اُس کے لیے یہ مباح قرار دیا جائے گا۔
نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ بھی دیتے تھے اور باستثنائے جماع جسمانی قربت بھی فرماتے تھے، مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ اپنے نفس پر قابو رکھنے والے اور اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والے تھے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بوسے کے بارے میں اصل حکم جواز کا ہے اور ممانعت صرف اس صورت میں ہوگی جب (بحالتِ روزہ) کسی ممنوع کام کے ارتکاب کا اندیشہ ہو۔
حدیث مبارک اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ ایک مفتی کے لیے فہمِ عمیق اور سائل کے حال کو خوب سمجھنا کس قدر اہمیت رکھتا ہے کیونکہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو ایک ہی جواب نہیں دیا، بلکہ ہر سائل کو اُس کے حال کے مطابق مصلحت کے حصول اور خرابی سے بچاتے ہوئے جواب دیا۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔