بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«سوموار اور جمعرات کے دن اعمال پیش کیے جاتے ہیں تو مجھے پسند ہے کہ میرے اعمال اس حال میں پیش کیے جائیں کہ میں نے روزہ رکھا ہو۔»


یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سنن ترمذی (حدیث نمبر 747) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 2959) اور صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 1041)۔


حدیث کی مختصر وضاحت


روزہ نہایت جلیل القدر عبادات میں سے ایک عبادت ہے اور تزکیۂ نفس، خواہشات کو دبانے اور درجات کی بلندی میں گہرا اثر رکھتا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ نے چند اوقات کو خاص فضیلت سے نوازا ہے اور انھی میں سوموار اور جمعرات کے دن بھی شامل ہیں۔
اس حدیث مبارک میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: «سوموار اور جمعرات کے دن اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔» اس کے معنی یہ ہیں کہ بندوں کے اچھے بُرے تمام اعمال اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں۔ یہ پیشی علم حاصل کرنے کے لیے نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ہر چیز کو جاننے والا ہے، بلکہ اعمال کی یہ پیشی نظامِ جزا وسزا کے قیام کے لیے ہوتی ہے۔ یعنی مغفرت، یا اجر میں اضافے اور درجات کی بلندی کی صورت میں بدلہ دینے کے لیے، یا کوتاہی پر مواخذے کے لیے ہوتی ہے۔
فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم «تو مجھے پسند ہے کہ میرے اعمال اس حال میں پیش کیے جائیں کہ میں نے روزہ رکھا ہو» میں اس بات کی وجہ بیان کی گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخر کیوں ان دنوں کا روزہ ہمیشہ رکھتے تھے اور وہ وجہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اللہ تعالیٰ کے حضور عبادت اور اطاعت کی حالت میں پیش ہو، تاکہ قبولیت کی اُمید زیادہ ہو اور مرتبہ بلند تر ہو۔
روزے کی حالت میں عمل کے پیش ہونے کی خواہش بطورِ خاص اس لیے تھی کہ روزے میں اخلاص کی کیفیت عام عبادات سے بڑھ کر ہوتی ہے کیونکہ یہ ایسی خالص عبادت ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان خاص ہے۔ علاوہ ازیں بندہ نہیں جانتا کہ کس گھڑی اس کے اعمال اس کے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے، اس لیے بھی روزے کا انتخاب فرمایا کیونکہ وہ پورا دن جاری رہنے والی عبادت ہے، نیز روزے کے دوران دیگر تمام عبادات یکجا ہوسکتی ہیں اور یہ خصوصیت اس کے علاوہ کسی اور عبادت میں موجود نہیں۔
اعمال کا پیش ہونا صرف سوموار اور جمعرات تک محدود نہیں، بلکہ بندے کے اعمال مختلف مراتب میں پیش ہوتے ہیں، چنانچہ رات کے اعمال دن کے وقت پیش کیے جاتے ہیں اور دن کے اعمال رات کے وقت، پھر ہفتہ بھر کے تمام اعمال سوموار اور جمعرات کو پیش کیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد پورے سال کے اعمال ماہِ شعبان میں پیش کیے جاتے ہیں۔ یوں اعمال پیش کیے جانے کا یہ سلسلہ عمر بھر جاری رہتا ہے، حتیٰ کہ جب زندگی مکمل ہوجاتی ہے تو زندگی بھر کے اعمال اٹھا لیے جاتے ہیں اور صحیفہ (نامۂ اعمال) لپیٹ دیا جاتا ہے۔ گویا اعمال کی پیشی یکے بعد دیگرے جاری رہتی ہے، یعنی یومیہ، ہفتہ وار، سالانہ اور پھر آخرکار زندگی کے اختتام پر!
حدیث مبارک میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسنِ ادب کی طرف بھی اشارہ ہے کیونکہ بندہ اس بات سے حیا محسوس کرتا ہے کہ اس کا عمل اس کے رب کے حضور اس حال میں پیش ہو کہ وہ گناہ پر قائم ہو، یا حقوق اللہ میں کوتاہی کا مرتکب ہے۔ اور اگر یہ معاملہ اوقاتِ فضیلت (سوموار اور جمعرات وغیرہ) یا حالتِ فضیلت (روزے وغیرہ) میں بھی جاری رہا تو پھر کیا کیفیت ہوگی! یہی وجہ ہے کہ سلف صالحین ان دنوں کی تعظیم کرتے، اطاعت میں خوب محنت کرتے اور گناہوں سے سختی سے بچتے تھے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔