بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«اللہ کا وفد (خاص مہمان) تین قسم کے لوگ ہیں: مجاہد، حاجی اور معتمر۔»


یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سنن نسائی (حدیث نمبر 2625)، صحیح ابن خزیمہ (حدیث نمبر 2511) اور سنن کبریٰ بیہقی (حدیث نمبر 10387) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ تینوں کتب میں موجود ہیں۔
یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ صحیح ابن حبان (حدیث نمبر 3692) میں بھی مروی ہے، البتہ اس میں مجاہد کا ذکر بعد میں ہے۔
ان سے ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 2892) میں بھی مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 7112) اور صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 1109)۔ 


حدیث کی مختصر وضاحت


یہ حدیث مبارک اُن عبادات کی فضیلت بیان کرتی ہے جنھیں بجالانے والوں کو اللہ تعالیٰ کے ہاں اضافی تکریم نصیب ہوتی ہے اور وہ یہ ہیں: مجاہد، حاجی اور معتمر کیونکہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو ’’اللہ کا وفد‘‘ یعنی اللہ کے خاص مہمان قرار دیا ہے اور یہ ایک تشریفی نسبت ہے جو ان کے عظیم الشان مرتبے، اللہ تعالیٰ سے قربت اور اس کے نزدیک ان کی خصوصی حیثیت پر دلالت کرتی ہے۔
انھیں ’’وفد‘‘ اس لیے کہا گیا کیونکہ یہ لوگ اپنے اپنے وطن سے نکلتے ہیں، اپنا مال خرچ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں، چنانچہ معنی کے اعتبار سے وہ اُن وفود کے مشابہ ہیں جو بادشاہوں کے دربار میں جاتے ہیں اور وہاں عزت ونوازش اور عطا کے مستحق ٹھہرتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ تو سب سے بڑھ کر جُود وکرم والا ہے، چنانچہ وہ عظیم الشان ثواب، اجرِ جزیل اور وسیع فضل سے ان کی عزت فرمائی کرتا ہے۔
ان تینوں کو ایک ساتھ اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ تینوں ہی ان اوصاف میں مشترک ہیں: وطن سے جدائی، جان ومال کی قربانی اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں مشقت برداشت کرنا۔ اسی بنا پر وہ بلند درجے اور عظیم الشان اجر کے مستحق قرار پاتے ہیں، البتہ ہر ایک کو اس کے دل میں موجود صدق اور اخلاص ہی کے مطابق بدلہ دیا جاتا ہے!
اجر وثواب کے اعتبار سے ان کے ساتھ دوسرے لوگ بھی مل جاتے ہیں، جیسے: وہ شخص جو حصولِ علم یا صلہ رحمی کی خاطر سفر کرتا ہے کیونکہ وہ بھی اپنے سفر اور مشقت پر نیت اور اخلاص کے بقدر اجر پاتا ہے، تاہم ’’اللہ کا وفد‘‘ ہونے کا خاص اعزازی لقب مجاہد، حاجی اور معتمر ہی کے ساتھ خاص ہے کیونکہ ایک تو نص میں انھی کا ذکر آیا ہے اور دوسرا یہ کہ ان عبادات کے مقاصد بھی نہایت عظیم ہیں اور ان کی مشقت بھی بہت زیادہ ہے۔
حدیث مبارک میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد، حج اور عمرہ کرنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے، نیز اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان کرم نوازی کا بھی ذکر ہے۔
اسی طرح اس میں ایک مسلمان کے لیے اس بات کی ترغیب بھی ہے کہ جب کبھی ان جلیل القدر عبادات کے اسباب میسر آجائیں تو وہ انھیں غنیمت سمجھے (اور انھیں ادا کرنے میں سستی نہ کرے)۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔