منگل 26 صفر 1448 | 2026-08-11

A a

«رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر وحضر (حالتِ اقامت) میں ’’ایامِ بیض‘‘ کے روزے نہیں چھوڑا کرتے تھے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سنن نسائی (حدیث نمبر 2345)، معجم کبیر طبرانی (حدیث نمبر 12320) اور الاحادیث المختارہ از ضیاء مقدسی (حدیث نمبر 100) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ معجم کبیر طبرانی اور الاحادیث المختارہ کے ہیں۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 4848) اور سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 580)۔ 


حدیث کی مختصر وضاحت


یہ حدیث مبارک اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیکیوں پر کس قدر ہمیشگی اختیار فرماتے اور نفلی عبادات پر مداومت کی کس قدر خواہش رکھتے تھے۔ انھی نفلی عبادات میں سے ایک سفر وحضر میں ’’ایامِ بیض‘‘ کے روزے ہیں، جیساکہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس بابت خبر دی ہے۔
الفاظِ روایت «وہ نہیں چھوڑا کرتے تھے ...» کے معنی یہ ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں کے روزے نہ حالتِ اقامت (حضر) میں چھوڑتے اور نہ حالتِ سفر میں، بلکہ سفر وحضر میں ان کی پابندی فرماتے تھے جس کی وجہ ان دنوں کی عظیم الشان فضیلت ہے کیونکہ ہر مہینے تین دن کے روزے رکھنا سال بھر روزے رکھنے کے برابر عمل ہے۔
’’ایامِ بیض‘‘ سے مراد ہر ہجری (قمری) مہینے کی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ ہے۔ انھیں ’’ایامِ بیض‘‘ اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان کی راتیں چاند کی روشنی سے خوب روشن ہوتی ہیں، چنانچہ اسی مناسبت سے ان دنوں میں اللہ تعالیٰ کے لیے شکر کا روزہ رکھنا چاہیے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب ان راتوں میں روشنی عام ہوتی ہے تو اس مناسبت سے دن بھی عبادت سے معمور ہونے چاہئیں۔
حدیث مبارک میں یہ بیان ہوا ہے کہ نفلی روزہ صرف حضر (حالتِ اقامت) کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ سفر میں بھی مشروع ہے، بشرط کہ روزہ رکھنے والے کو کوئی زائد مشقت لاحق نہ ہو۔ اور یہ بات نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے خلاف نہیں: «سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں» کیونکہ یہ فرمان اُس شخص کے بارے میں سمجھا جائے گا جسے روزہ رکھنے میں مشقت ہو، یا یہ نفلی روزہ اس کے لیے حقوق کے ضیاع اور واجبات کی ادائیگی میں خلل کا سبب بنے۔ البتہ وہ شخص جو بغیر کسی تکلیف اور مشقت کے روزہ رکھ سکتا ہو تو اس کے حق میں روزہ مشروع ہے، بلکہ یہ مسنون ہونے کی بنا پر فضیلت کا باعث بھی ہوسکتا ہے۔
نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہمیشگی میں امت کے لیے عملی تعلیم ہے اور اس بات کی واضح دلیل بھی کہ اگر عمل کرنے والا اپنے قلیل اعمال پر بھی ہمیشگی اختیار کرلے تو وہ عظیم ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے شریعتِ مطہرہ نے ہر ماہ تین دن کے روزوں کو سال بھر کے روزوں کے برابر قرار دیا ہے کیونکہ ایک نیکی کا اجر دس گنا ہے تو یوں ایک دن کا روزہ دس دن کے برابر اور تین دن کے روزے تیس دن کے برابر ہوئے۔ تو جو شخص ہر ماہ یہ تین روزے رکھتا رہے، وہ گویا سال بھر روزے سے رہا۔ اور جو شخص چند مہینے یہ تین روزے رکھتا ہے تو اسے اس مہینے تیس دن کے روزوں کا اجر ملتا ہے۔
حدیث مبارک میں نیکیوں پر ہمیشگی اختیار کرنے کی ترغیب ہے اور یہ وضاحت بھی کہ نفلی عبادات سفر میں ترک نہیں کی جائیں گی اگر انھیں انجام دینے میں کوئی مشقت نہ ہو۔ علاوہ ازیں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ نیک عمل پر ثابت قدمی اور ہمیشگی اختیار کی جائے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔