موسیٰ بن ابی طلحہ رحمہ اللہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: ہمارے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی ایک تحریر ہے کہ «نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زکات صرف گندم، جَو، کشمش اور کھجور میں سے لی تھی۔»
یہ حدیث مسند احمد (حدیث نمبر 21989) میں مروی ہے۔ اور سنن دارقطنی (حدیث نمبر 1913) میں بروایت حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بایں الفاظ مروی ہے: «رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکات صرف اِن چار چیزوں میں مقرر فرمائی ہے: گندم، جَو، کشمش اور کھجور۔»
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 3584) اور سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 879)
حدیث کی مختصر وضاحت
یہ حدیث اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فصلوں اور پھلوں کی زکات چند مخصوص اقسام میں سے لی تھی، یعنی گندم، جَو، کھجور اور کشمش۔
حدیث میں ’’صدقہ‘‘ سے مراد اناج اور پھلوں کی زکات ہے جو فصل کی سیرابی کے اعتبار سے عُشر (دسواں حصہ) یا نصف عشر (بیسواں حصہ) ہوتا ہے۔
اس سے زکات کو بعینہ انھی اجناس تک محدود کرنا مقصود نہیں، بلکہ یہاں حصر سے (ان چار چیزوں کے) اوصاف کو محصور کرنا مقصود ہے۔ لہٰذا ہر وہ چیز جو ان کے مشابہ ہو اس اعتبار سے کہ وہ خوراک ہو، کھائی جاتی ہو، ذخیرہ کی جاتی ہو اور ناپی جاتی ہو، وہ حکم میں انھی کے ساتھ ملائی جائے گی، جیسے: چاول، مکئی اور باجرا وغیرہ کیونکہ بنیادی علت ایک ہی ہے۔
البتہ جو چیز ناپی نہ جاسکے اور نہ ذخیرہ کی جاسکے، جیسے: پھل اور سبزیاں تو ان پر زکات نہیں ہے۔ اگرچہ جدید طریقوں سے انھیں محفوظ کیا جانا ممکن ہوچکا ہے، لیکن ان میں معتبر شرعی وصف موجود نہیں۔
یہ چار اقسام خاص طور پر اس لیے ذکر کی گئی ہیں کہ یہ اُس زمانے کی بنیادی غذائیں تھیں، سب سے زیادہ استعمال ہوتیں اور ذخیرہ کی جاتی تھیں، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق نصاب کے پورا ہونے کا اعتبار بھی کیا گیا ہے: «پانچ اوسق سے کم میں زکات نہیں ہے۔»
حدیث مبارک میں یہ بیان ہوا ہے کہ سنتِ نبویہ قرآن کے مبہم احکام کی توضیح اور اجمالی اُمور کی تفصیل بیان کرتی ہے۔