پیر 24 ربيع الأوّل 1448 | 2026-09-07

A a

«تمھاری عیدالفطر اُس دن ہے جس دن تم افطار کرو گے (روزہ نہیں رکھو گے) اور تمھاری عیدالاضحی اُس دن ہے جس دن تم قربانی کروگے۔ اور پورا میدانِ عرفات وقوف کرنے کی جگہ ہے اور سارا میدانِ منیٰ قربانی کرنے کی جگہ ہے، نیز مکہ کی ساری گلیاں قربان گاہ ہیں۔ اور سارا مزدلفہ وقوف کرنے کی جگہ ہے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سنن ابوداود (حدیث نمبر 2324) اور سنن کبریٰ بیہقی (حدیث نمبر 6285) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 4225) اور صحیح سنن ابوداود (حدیث نمبر 2013)۔ 


حدیث کی مختصر وضاحت


یہ حدیث مبارک شرعی اصولوں میں سے ایک عظیم اصول کو واضح کرتی ہے اور وہ اصول یہ ہے کہ وہ عبادات جو ظاہری طور پر مخصوص وقت اور جگہ سے تعلق رکھتی ہیں، انھیں مسلمانوں کی جماعت کی پیروی ہی میں ادا کیا جائے، تاکہ وحدت محفوظ رہے اور اختلاف سے بچا جاسکے۔ انھی معنی میں یہ فرمانِ نبوی ہے: «تمھاری عیدالفطر اُس دن ہے جس دن تم افطار کرو گے» یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ روزہ رکھنا اور نہ رکھنا لوگوں کے اجتماع اور امام ہی کے ساتھ معتبر ہوگا، چنانچہ اگر رؤیتِ ہلال میں اجتہادی غلطی ہوجائے تو بھی عبادت برقرار اور صحیح رہتی ہے؛ نہ اس میں کوئی گناہ ہے اور نہ اعادہ لازم آئے گا کیونکہ یہ عمومِ بلویٰ (عمومی طور پر درپیش امر جس سے بچنا انسان کے لیے مشکل ترہو جائے) میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں اپنے بندوں سے تنگی وحرج اُٹھادیا ہے، البتہ روزوں کی تعداد پوری نہ ہونے کی صورت میں لوگ اس کے بدلے ایک دن کی قضا کریں گے۔
فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم «تمھاری عیدالاضحی اُس دن ہے جس دن تم قربانی کرو گے» اس بات پر بھی دلالت کرتا ہے کہ عیدالاضحیٰ اور وقوفِ عرفہ کے معاملے میں اصل اعتبار لوگوں اور ان کے امام کے اجتماع کا ہے، چنانچہ اگر رؤیتِ ہلال یا یومِ نحر کے تعین میں کوئی خطا واقع ہوجائے تو عبادت بہرحال برقرار اور صحیح رہتی ہے؛ نہ کوئی گناہ ہے اور نہ اعادہ لازم آئے گا کیونکہ یہ عمومِ بلویٰ میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے تنگی وحرج اُٹھادیا ہے۔
فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: «اور پورا میدانِ عرفات وقوف کرنے کی جگہ ہے اور سارا میدانِ منیٰ قربانی کرنے کی جگہ ہے۔»
’’عرفہ‘‘ حدودِ حرم سے باہر ایک جگہ ہے جہاں حاجی ۹ ذوالحجہ کو وقوف کرتے (ٹھہرتے) ہیں۔ وقوفِ عرفہ حج کا سب سے اہم رکن ہے۔ اگر کسی سے وقوفِ عرفہ رہ جائے تو اس کا حج رہ گیا، چنانچہ اسے آئندہ برس اس کی قضا دینا لازم ہے۔
یہ حدیث اس شخص کے اعتقاد کی بھی تردید کرتی ہے کہ وقوفِ عرفہ جبلِ عرفہ کے ساتھ مخصوص ہے، یا وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اس مقام کو کوئی خصوصیت وامتیاز حاصل ہے جو اسی کے ساتھ خاص ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ عرفہ کے کسی بھی مقام پر وقوف درست ہے کیونکہ نصِ حدیث کے مطابق پورا (میدان) عرفہ ہی وقوف کی جگہ ہے۔
البتہ ’’جمع‘‘ سے مراد مزدلفہ ہے جو حدودِ حرم کے اندر واقع ایک جگہ ہے۔ یہاں رات گزارنا حج کے واجبات میں سے ہے۔ اگر بغیر کسی عذر کے یہ واجب رہ جائے تو دم (قربانی) دینا لازم ہے، مگر حج صحیح رہتا ہے۔
فرمانِ نبوی ہے: «اور سارا میدانِ منیٰ قربانی کرنے کی جگہ ہے اور مکہ کی ساری گلیاں قربان گاہ ہیں۔» ’’منیٰ‘‘ حج کے مشاعر میں سے ایک مشہور جگہ ہے جہاں قربانی کرنا مشروع کیا گیا ہے۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں قربانی کی اور فرمایا: «منیٰ سارے کا سارا قربانی کی جگہ ہے۔»
’’فجاج مکہ‘‘ سے مراد مکہ کے راستے، گزرگاہیں اور پہاڑوں کے درمیان مقامات ہیں۔ چنانچہ مکہ کے تمام اطراف میں قربانی کے جانور ذبح کرنا مشروع ہے، تاکہ لوگوں کے لیے آسانی ہو اور ان سے تنگی ومشقت کو دور کردیا جائے۔
حدیث سے مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ وقوف اور قربانی کے مقامات میں وسعت رکھی گئی ہے، چنانچہ عرفہ یا مزدلفہ کے اندر کوئی مخصوص جگہ متعین نہیں ہے، بلکہ ان دونوں مقامات میں کسی بھی جگہ وقوف کرنا کفایت کرے گا۔ اسی طرح نحر کے لیے بھی کسی متعین مقام کی پابندی نہیں ہے۔ یہ سب تنگی دور کرنے اور سختی کو ختم کرنے کے لیے ہے، البتہ اتباعِ سنت کے اعتبار سے منیٰ میں نحر کرنا زیادہ بہتر ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں نحر کیا تھا۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔