بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں موجود تھا، چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فراغت پائی تو فرمایا: ہم خطبہ دیں گے۔ تو جو شخص خطبے کے لیے بیٹھنا چاہے، وہ بیٹھ جائے اور جو جانا چاہے، وہ جاسکتا ہے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سنن ابوداود (حدیث نمبر 1155)، سنن نسائی (حدیث نمبر 1571) اور سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 1290) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ سنن ابوداود کے ہیں۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 2289) اور صحیح سنن ابوداود (حدیث نمبر 1048)۔ 


حدیث کی مختصر وضاحت


خطبۂ عید نمایاں شعائرِ اسلام میں سے ہے اور اس میں شرکت مشروع ہے کیونکہ یہ دینی شعائر کے اظہار اور مسلمانوں کے اجتماع کی علامت ہے۔
اس حدیث میں حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید کی نماز میں موجود تھے، چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو حاضرین کو بتایا کہ وہ ابھی خطبہ دیں گے۔ پھر انھیں اختیار دے دیا کہ چاہیں تو خطبہ سننے کے لیے بیٹھ جائیں، یا واپس چلے جائیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عید کا خطبہ جمعہ کے خطبے کی طرح واجب نہیں، البتہ اسے سننا مستحب ہے، تاہم خطبہ سننا اور استفادہ کرنا زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس میں ذکر ونصیحت کا سننا اور سنت کی موافقت پائی جاتی ہے۔
حدیث مبارک میں یہ بیان ہوا ہے کہ شریعت میں آسانی ہے اور لوگوں کے احوال کا مکمل لحاظ رکھا گیا ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے بندوں سے تنگی اور مشقت کو دُور کردیا ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔