«قبیلہ جُہینہ کی ایک عورت نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض گزار ہوئی کہ میری والدہ نے حج کی نذر مانی تھی، مگر وہ حج ادا کیے بغیر وفات پاگئیں تو کیا میں ان کی طرف سے حج کرسکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، ان کی طرف سے حج کرلو۔ بتاؤ اگر تمھاری والدہ پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں؟ اللہ کا حق ادا کرو کیونکہ اللہ سب سے زیادہ استحقاق رکھتا ہے کہ اس کا حق ادا کیا جائے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما صحیح بخاری (حدیث نمبر 1852) میں مروی ہے۔
حدیث کی مختصر وضاحت
یہ حدیث مبارک اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عبادات ہمیشہ استطاعت (طاقت اور وسائل) کے مطابق ادا کی جاتی ہیں اور یہ کہ بعض عبادات میں نیابت بھی مشروع ہے۔ انھی میں سے یہ بھی ہے جس کی خبر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے دی ہے کہ ایک خاتون نے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی والدہ کے حوالے سے سوال کیا کہ انھوں نے حج کی نذر مانی تھی، لیکن حج کرنے سے پہلے ان کی وفات ہوگئی۔ تو کیا وہ ان کی طرف سے حج کر سکتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کی والدہ کی طرف سے حج کرنے کی اجازت دی اور نہایت بلیغ تعلیمی انداز میں اسے شرعی حکم سمجھایا، چنانچہ حج کو قرض کے ساتھ تشبیہ دی اور فرمایا: «تمھارا کیا خیال ہے کہ اگر تمھاری والدہ پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتی؟» تو جس طرح آدمی کا قرض اس کی وفات کے بعد بھی ادا کیا جاتا ہے، اسی طرح اللہ کا حق بدرجۂ اَولیٰ ادائیگی کا استحقاق رکھتا ہے۔ اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللہ کا حق ادا کرو کیونکہ اللہ سب سے زیادہ استحقاق رکھتا ہے کہ اس کا حق ادا کیا جائے۔»
تو اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ نیکی کی نذر کو پورا کرنا واجب ہے اور میت کی طرف سے قرض ادا کیا جائے گا، خواہ میت نے اس کی وصیت کررکھی ہو یا نہ کی ہو۔ اگر اس نے مال چھوڑا ہو تو اس کے ترکے سے (رقم) نکالی جائے گی، لیکن اگر اس نے مال نہ چھوڑا ہو تو وارثوں پر ادائیگی واجب نہیں، بلکہ ان کے لیے یہ کام اختیاری نیکی اور میت کے ساتھ حسنِ سلوک کے طور پر مشروع ہے، نہ کہ بطورِ وجوب ولزوم۔
حدیث مبارک شریعت کی وسعت اور اس کی آسانی پر دلالت کرتی ہے، نیز اپنی اُمت کو مثالوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حسنِ تعلیم پر اور اسی طرح شرعی احکام کو لوگوں کے ہاں معروف اُمور کے ساتھ جوڑنے پر دلالت کرتی ہے اور اسی میں قیاس بھی شامل ہے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میت کی طرف سے حج کو آدمی کے قرض کے ساتھ تشبیہ دی اور وجوبِ قضا میں اشتراک کی بنا پر ایک کو دوسرے کے ساتھ ملایا ہے۔ اسی طرح یہ حدیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ عورت کے لیے اہلِ علم سے اپنی ضرورت کے مسائل پوچھنا جائز ہے اور یہ کہ نذر موت سے ساقط نہیں ہوتی۔ اسی طرح والدین کی وفات کے بعد ان کی طرف سے نذر پوری کرنا بھی ان کے ساتھ نیکی اور حسنِ سلوک ہے۔