منگل 26 صفر 1448 | 2026-08-11

A a

«روزہ اسی دن (معتبر) ہے جس دن تم روزہ رکھو، عیدالفطر اسی دن ہے جس دن تم عید مناؤ اور عیدالاضحی اسی دن ہے جس دن تم قربانی کرو۔»


یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سنن ترمذی (حدیث نمبر 697) اور سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 1660) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ سنن ترمذی کے ہیں۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 3869) اور سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 224)۔ 


حدیث کی مختصر وضاحت


مسلمانوں کی اجتماعیت قائم رکھنا اور تفرقے کا سدِباب کرنا شریعتِ اسلامیہ کے مقاصد میں سے ہے، بالخصوص ان ظاہری شعائر میں جن میں امت کی وحدت اور اجتماع نمایاں طور پر نظر آتا ہے، چنانچہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اسی سے عبارت ہے: «روزہ اسی دن ہے جس دن تم روزہ رکھو اور عیدالفطر اسی دن ہے جس دن تم عید مناؤ۔» یعنی ماہِ رمضان کے روزے رکھنا اور عیدالفطر منانا شرعاً اسی صورت میں معتبر ہے جب وہ مسلمانوں کی جماعت اور ان کے حاكم کے مطابق ہو۔ «اور عیدالاضحی اسی دن ہے جس دن تم قربانی کرو۔» یعنی عیدالاضحی بھی تبھی معتبر مانی جائے گی جب مسلمانوں کی جماعت اور ان کا حاکم اس کی ابتدا کا فیصلہ کریں گے۔
چنانچہ اگر رؤیتِ ہلال میں غلطی واقع ہوجائے اور لوگ اسی بنیاد پر روزہ رکھ لیں یا عید کرلیں، پھر بعد میں حقیقت اس کے خلاف ظاہر ہو تو ان کی عبادت شرعاً برقرار رہے گی، معتبر ہوگی اور ان پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ البتہ اگر مہینا مکمل نہ ہوا تو انھیں لازماً قضا دینا ہوگی۔ اسی طرح عیدالاضحی کا معاملہ ہے کہ اگر اس میں رؤیتِ ہلال میں غلطی ہوجائے تو ان کا وقوفِ عرفہ درست ہوگا، ان کی قربانی کفایت کرے گی اور ان شاء اللہ ان کا حج صحیح ہوگا۔
حدیث کے ظاہر سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی تنہا شخص چاند دیکھ بھی لے تو بہرحال اس پر لازم ہے کہ وہ مسلمانوں کی جماعت اور امام کے ساتھ چلے، تاکہ امت کی وحدت قائم رہے اور اختلاف کا دروازہ بند ہو۔ یہ طرزِ عمل کسی فرد کے ذاتی اجتہاد پر عمل کرنے سے کہیں زیادہ اولیٰ اور بہتر ہے۔ اور اس معاملے میں انحصار فلکی حسابات پر نہیں، بلکہ اس امر پر ہوگا جس پر امت کا اجتماع واتفاق ہو۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔