جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«ہم نے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قیام نہیں کرایا (تراویح نہیں پڑھائیں)، حتیٰ کہ مہینے کے سات دن باقی رہ گئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قیام کرایا، یہاں تک کہ رات کا ایک تہائی حصہ گزر گیا، پھر چھٹی رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قیام نہیں کرایا، اور پھر پانچویں رات ہمیں قیام کرایا، یہاں تک کہ آدھی رات بیت گئی۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کاش کہ آپ ہمیں ہماری اس بقیہ رات میں بھی نفل نماز پڑھادیں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص امام کے ساتھ قیام کرے، یہاں تک کہ امام فارغ ہوکر چلا جائے، اُس کے لیے ایک رات کے قیام کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔‘‘ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قیام نہیں کرایا، یہاں تک کہ مہینے کی تین راتیں باقی رہ گئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری رات کا قیام کرایا اور اپنے اہلِ خانہ اور ازواج رضی اللہ عنہم کو بھی جمع فرمایا، یہاں تک کہ ہمیں کھٹکا لگ گیا کہ ’’فلاح‘‘ رہ جائے گی۔ (راویِ حدیث کہتے ہیں:) میں نے پوچھا: ’’فلاح‘‘ کیا ہے؟ کہا: سحری۔»


یہ حدیث بروایت حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ مسند احمد (حدیث نمبر 21447)، سنن ابوداود (حدیث نمبر 1375)، سنن ترمذی (حدیث نمبر 806)، سنن کبریٰ نسائی (حدیث نمبر 1300) اور سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 1327) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ سنن کبریٰ نسائی کے ہیں۔
سنن ابوداود (حدیث نمبر 1375)، مسند احمد (حدیث نمبر 21419)، سنن نسائی (حدیث نمبر 1289) اور سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 1327) میں یہ اضافہ ہے: «پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بقیہ مہینے میں قیام نہیں کیا۔» یہ الفاظ سنن ابوداود کے ہیں۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 2417) اور صحیح سنن نسائی (حدیث نمبر 1292، 1514)۔ 


حدیث کی مختصر وضاحت


یہ حدیث مبارک عبادت کے معاملے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے شدید شوق اور خیر میں آگے بڑھنے کی سچی رغبت بیان کرتی ہے۔ اسی طرح اس میں رمضان المبارک، خصوصاً اس کے آخری عشرے میں، قیام اللیل کے حوالے سے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی طریقہ واضح ہوا ہے۔
اس حدیث مبارک میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ «ہم نے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قیام نہیں کرایا (تراویح نہیں پڑھائیں)، حتیٰ کہ مہینے کے سات دن باقی رہ گئے» یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدائے رمضان میں انھیں باجماعت قیام نہیں کرایا، یہاں تک کہ رمضان كى آخری سات راتیں باقی رہ گئیں۔ یہ گنتی مہینے کو انتیس دن کا فرض کرلینے پر ہے، چنانچہ مہینے کے آخر سے راتوں کی گنتی کرنے کے اہل عرب کے یہاں مروجہ طریقہ کے مطابق قیام کی ابتدا تیئسویں رات کو بنتی ہے، چنانچہ اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں طویل قیام کرایا، یہاں تک کہ رات کا تقریباً تہائی حصہ گزر گیا۔ «پھر چھٹی رات ہمیں قیام نہیں کرایا» یہ چوبیسویں شب بنتی ہے «تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچویں رات میں قیام کرایا» یعنی جب پچیسویں رات آئی۔ «نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قیام کرایا، یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی۔» یعنی اتنا طویل قیام کرایا، حتیٰ کہ نصف رات گزرگئی، چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں میں مزید خیر ونیکی حاصل کرنے کی شدید خواہش بیدار ہوئی تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: «اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کاش کہ آپ ہمیں ہماری اس بقیہ رات میں بھی نفل نماز پڑھادیں۔» یعنی کاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخر تک ہمارا قیام مکمل فرمادیتے!
تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فضیلت اور آسانی پر مشتمل ایک عظیم الشان اصول بیان کرتے ہوئے جواب دیا، چنانچہ فرمایا: «جو شخص امام کے ساتھ قیام کرے، یہاں تک کہ امام فارغ ہوکر چلا جائے، اُس کے لیے ایک رات کے قیام کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔» یعنی جو شخص امام کے ساتھ قیام میں شریک رہے، یہاں تک کہ امام قیام کر کے فارغ ہوجائے، وہ مکمل رات کے قیام کا اجر حاصل کرلیتا ہے، اگرچہ وہ بقیہ رات قیام نہ بھی کرے! یہ اپنے بندوں پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت اور سہولت ہے۔ «پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قیام نہیں کرایا، یہاں تک کہ مہینے کی تین راتیں باقی رہ گئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری رات کا قیام کرایا۔» یعنی نبی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بقیہ راتوں میں سے چھٹی رات قیام نہیں کرایا۔ یہ چھبیسویں رات بنتی ہے، یہاں تک کہ مہینے کی تین راتیں باقی رہ گئیں تو ان میں سے تیسری رات، یعنی ستائیسویں شب، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں قیام کرایا۔ «اور اپنے اہلِ خانہ اور ازواج رضی اللہ عنہم کو بھی جمع فرمایا۔» یعنی اپنے اہلِ خانہ کو صلاۃ اللیل کے لیے اس شدتِ شوق سے بیدار فرمایا کہ وہ بھی لیلۃ القدر کی فضیلت پالیں۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: «یہاں تک کہ ہمیں کھٹکا لگ گیا کہ ’’فلاح‘‘ رہ جائے گی۔ » معنی یہ ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اس رات اتنا طویل قیام کرایا، حتیٰ کہ انھیں سحری کے رہ جانے کا کھٹکا لگ گیا۔ سحری کا نام ’’فلاح‘‘ اس لیے رکھا گیا ہے کہ وہ اُس روزے میں معاون ہوتی ہے جو دنیا وآخرت میں کامیابی تک پہنچانے والا ہے۔

حاصل کلام یہ ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو طاق راتوں میں قیام کرایا، یعنی تئیسویں رات کو تقریباً تہائی رات تک، پچیسویں رات کو تقریبا نصف رات تک اور ستائیسویں رات کو رات کے آخر تک، حتیٰ کہ انھیں سحری کے رہ جانے کا دھڑکا لگ گیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باجماعت قیام پر ہمیشگی اس اندیشے سے ترک فرمادی کہ کہیں یہ قیام امت پر فرض نہ کردیا جائے۔ الفاظِ روایت «پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بقیہ مہینے میں قیام نہیں کیا» کے یہی معنی ہیں۔
حدیث مبارک میں آخری عشرے کی طاق راتوں میں قیام اللیل کی خاص تاکید ثابت ہوتی ہے کیونکہ انھی راتوں میں لیلۃ القدر پانے کی اُمید زیادہ ہے۔ علاوہ ازیں اہلِ خانہ کو نیکی وعبادت کی ترغیب دینے کا استحباب بھی ثابت ہوا۔ اسی طرح نماز مکمل کرکے چلے جانے تک امام کے ساتھ قیام کرنے والے کی فضیلت اور سحری کی مشروعیت بھی واضح ہوتی ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔