بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«روزہ صرف کھانے پینے سے رک جانے کا نام نہیں، بلکہ اصل روزہ لغویات اور فحش باتوں سے بچنے کا نام ہے۔ تو اگر کوئی تمھیں گالی دے یا تمھارے ساتھ جہالت سے پیش آئے تو تم کہو: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ صحیح ابن خزیمہ (حدیث نمبر 1996)، صحیح ابن حبان (حدیث نمبر 3479)، مستدرک حاکم (حدیث نمبر 1570) اور سنن کبریٰ بیہقی (حدیث نمبر 8385) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ مستدرک حاکم کے ہیں۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 5376) اور صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 1082)۔ 


حدیث کی مختصر وضاحت


روزہ محض کھانے پینے سے رک جانے کے لیے مشروع نہیں کیا گیا، بلکہ تقوے کے حصول، نفوس کی اصلاح اور اعضاء کو گناہوں سے روکنے کے لیے مشروع کیا گیا ہے۔ بلکہ اس کے عظیم ترین مقاصد میں اعضاء کی حفاظت بھی شامل ہے اور ان میں سب سے اہم عضو زبان ہے۔ اسی حقیقت کی طرف نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان اشارہ کرتا ہے: «روزہ صرف کھانے پینے سے رک جانے کا نام نہیں۔» یعنی جس کامل روزے پر عظیم الشان اجر مترتب ہوتا ہے، وہ محض روزہ توڑنے والی اشیاء (کھانا پینا) چھوڑنے کا نام نہیں ہے، بلکہ «اصل روزہ لغویات اور فحش باتوں سے بچنے کا نام ہے۔»
چنانچہ ’’لغو‘‘ سے مراد ہر وہ باطل اور بے فائدہ کلام ہے جس میں کوئی خیر نہ ہو، جیسے: گالی دینا، جھگڑا کرنا، یا ناحق بحث وتکرار۔ اور ’’رفث‘‘ سے مراد فحش کلامی اور شہوت کو مہمیز دینے والى قبیح باتوں کو صراحتا بیان کرنا ہے۔
اس سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ ’’لغو‘‘ اور ’’رفث‘‘ عام حالات میں جائز ہیں۔ یہ تو بہرحال حرام ہیں، البتہ روزے کی حالت میں ان کی ممانعت زیادہ سخت ہوجاتی ہے کیونکہ یہ روزے کے مقصد اور اس کے روحانی ثمرات ضایع کردیتی ہیں۔
پھر نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اذیت اور بدسلوکی کے وقت ایک ایسا عظیم الشان مودّب طریقہ سکھلایا ہے جو زبان کو قابو میں رکھنے کا اہم ذریعہ ہے اور اسی سے روزے کے روحانی واخلاقی اثرات ظاہر ہوتے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «تو اگر کوئی تمھیں گالی دے یا تمھارے ساتھ جہالت سے پیش آئے۔» یہاں ’’جہالت‘‘ سے مراد عدمِ علم نہیں، بلکہ بدتمیزی اور بے وقوفی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد نامناسب قول وفعل ہے، جیسے: زیادتی، اذیت یا فحش رویہ۔ «تو تم کہو: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔» یہ دل میں، یا زبان سے، یا بیک وقت زبان ودل سے کہو، تاکہ انسان خود کو عبادت کا تقدس یاد دلائے، بُرائی کا جواب بُرائی سے دینے سے رک جائے اور جواب نہ دینے کی وجہ کا بھی اِظہار ہوجائے، تاکہ حد سے باہر آنے والا اپنے شر سے باز آجائے۔
یہ حدیث مبارک (انسانی) طرزِ عمل کی اصلاح کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بصیرت افروز راہنمائی کا مظہر ہے، نیز اس عبادت کی عظمتِ شان اور اس کے اجر کی حفاظت کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ یاد رہے کہ یہ ہدایت فرضی اور نفلی، دونوں طرح کے روزوں کے لیے ہے۔


غلطی کی اطلاع دیں۔