«کھاؤ اور پیو۔ اور تمھیں وہ چمکتی ہوئی سفیدی ہرگز نہ روکے جو اوپر کی طرف اُٹھنے والی ہے، بلکہ کھاتے پیتے رہو، حتیٰ کہ تمھارے سامنے چوڑائی میں سرخی پھیلنا شروع ہوجائے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ مسند احمد (حدیث نمبر 16291)، سنن ابوداود (حدیث نمبر 2348) اور سنن ترمذی (حدیث نمبر 705) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ سنن ابوداود کے ہیں۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 4506) اور سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 2031)۔
حدیث کی مختصر وضاحت
شریعتِ اسلامیہ نے عبادات کے اوقات کو آغاز اور اختتام، ہر دو اعتبار سے منضبط ومقرر کیا ہے اور روزہ بھی انھی عبادات میں شامل ہے۔ پس نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث مبارک میں فجرِ صادق اور فجرِ کاذب کے مابین فرق بیان فرمایا ہے، تاکہ لوگوں پر کہیں اس بابت کوئی اشتباہ نہ ہو کہ وہ روزے کا وقت شروع ہونے سے پہلے ہی کھانے پینے سے رک جائیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اور تمھیں وہ چمکتی ہوئی سفیدی ہرگز نہ روکے جو اوپر کی طرف اُٹھنے والی ہے۔» یعنی تمھیں وہ سفید روشنی دھوکے میں نہ ڈالے اور تمھیں کھانے پینے سے نہ روکے جو اُفق پر لمبائی میں اوپر کی طرف نمودار ہوتی ہے۔ یہ فجرِ کاذب ہے جسے اہلِ عرب ’’ذَنَب السِّرحان‘‘ (بھیڑیے کی دم) کہتے ہیں۔ اس سے روزہ شروع نہیں ہوتا۔ یہ روشنی کچھ دیر رہتی ہے، پھر غائب ہوجاتی ہے۔
پھر فرمایا: «حتیٰ کہ تمھارے سامنے چوڑائی میں سرخی پھیلنا شروع ہوجائے۔» اس سے مراد فجرِ صادق ہے۔ یہ وہ سفیدی ہے جو مشرق کی سمت میں اُفق پر پھیلتی ہے۔ اسے یہاں ’’احمر‘‘ (سرخ) کہا گیا ہے کیونکہ اہلِ عرب کبھی کبھی سفید رنگ کے لیے ’’احمر‘‘ کا لفظ بھی بولتے ہیں، یعنی رات کی سیاہی سے نکلنے والی دن کی سفیدی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ ہلکی سی سرخی ہے جو اس سفیدی کے آغاز میں نمودار ہوتی ہے۔ اور یہی فجرِ صادق کی علامت ہے۔
حدیث مبارک میں فجرِ صادق کے طلوع ہونے تک کھانے پینے اور اِزدواجی تعلق کا جواز ذکر ہوا ہے، نیز عبادات کے اوقات کا ایسا انضباط وتقرر کیا گیا ہے جس سے نہ غلطی کا امکان باقی رہتا ہے اور نہ التباس کا شبہ در آتا ہے۔