«لوگ (حج کے بعد) ہر طرف کو نکل رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی روانہ نہ ہو، حتیٰ کہ اس کا آخری عمل بیت اللہ کے ساتھ (طواف) ہو۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما صحیح مسلم (حدیث نمبر 1327) میں مروی ہے۔
سنن ابوداود (حدیث نمبر 2002) اور سنن کبریٰ نسائی (حدیث نمبر 4170) میں یہ الفاظ ہیں: «حتیٰ کہ اس کا آخری عمل بیت اللہ کا طواف ہو۔»
صحیح بخاری (حدیث نمبر 1755) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1328) کی ایک روایت میں یوں ہے: «لوگوں کو حکم دیا گیا کہ ان کا آخری عمل بیت اللہ کے ساتھ (طواف) ہو، مگر حائضہ عورت کو رخصت دی گئی ہے۔»
حدیث کی مختصر وضاحت
یہ حدیث مبارک طوافِ وداع کا حکم بیان کر رہی ہے۔ ’’طوفِ وداع‘‘ مناسکِ حج میں سے آخری عمل ہے جو مکہ مکرمہ سے روانگی کے وقت ادا کیا جاتا ہے۔ پہلے لوگ حج سے فارغ ہو کر مکہ مکرمہ سے سیدھا اپنے اپنے وطن لوٹ جاتے تھے تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ہدایت فرمائی کہ وہ مکہ مکرمہ میں بیت اللہ کے طواف کو اپنا آخری عمل بنائیں، چنانچہ فرمایا: «تم میں سے کوئی بھی روانہ نہ ہو، حتیٰ کہ اس کا آخری عمل بیت اللہ کا طواف ہو۔» یعنی جو شخص مکہ سے نکلنے کا ارادہ کرے، اس پر واجب ہے کہ وہ طوافِ وداع کی نیت سے طواف کرے اور اسے اپنے تمام کاموں کے بعد آخری عمل کے طور پر یوں رکھے کہ اس کے فوراً بعد روانگی ہوسکے، تاکہ ’’وداع‘‘ کے معنی پورے ہوں اور بیت اللہ کی تعظیم شایانِ شان ہوسکے، البتہ حوائجِ ضروریہ کے لیے معمولی سی تاخیر ہوجانے میں کوئی حرج نہیں۔ طوافِ وداع خاص حاجی کے لیے ہے، عمرہ کرنے والے کے لیے یہ ضروری نہیں کیونکہ نصوص صرف حاجی کے بارے میں وارد ہوئی ہیں۔
حالتِ حیض اور نفاس والی خواتین کو اس وجوب سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے کیونکہ نبى صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: «مگر حائضہ عورت کو رخصت دی گئی ہے۔» تو اس سے معلوم ہوا کہ اگر وہ طوافِ افاضہ کرچکی ہوں تو طوافِ وداع ان سے ساقط ہوجاتا ہے۔
اسی طرح اہلِ مکہ پر اور اُس بیرونی مسافر پر بھی طوافِ وداع واجب نہیں جو مکہ ہی میں قیام کا ارادہ رکھتا ہو کیونکہ طوافِ وداع صرف اُس کے لیے مشروع ہے جو مکہ سے کوچ کر کے سفر پر نکل رہا ہو اور جس نے مکہ سے نہیں نکلنا تو اس کے لیے طوافِ وداع ضروری نہیں کیونکہ اس کے معاملے میں ’’روانگی‘‘ کے معنی متحقق نہیں ہوتے۔