جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«اللہ کی قسم! میں اُس رات کو خوب جانتا ہوں اور میرا غالب گمان یہ ہے کہ یہ وہی رات ہے جس کے قیام کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دیا تھا۔ وہ ستائیسویں رات ہے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ صحیح مسلم (حدیث نمبر 762) میں مروی ہے۔


حدیث کی مختصر وضاحت


جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو لیلۃ القدر کی فضیلت اور اس کے عظیم الشان مقام ومرتبے کا علم ہوا تو انھوں نے اس رات کے بے پناہ اجر کی اُمید میں اس کی تلاش میں بھرپور کوشش کی۔ اسی حوالے سے حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان بھی ہے: «اللہ کی قسم! میں لیلۃ القدر کو جانتا ہوں۔» یعنی میں اسے معین طور پر جانتا ہوں، یا غالب گمان کے طور پر، جیساکہ ان کے فرمان سے واضح ہوتا ہے: «میرا غالب علم (اسی کی طرف ہے)۔» پھر انھوں نے فرمایا: «یہ وہی رات ہے جس کے قیام کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دیا تھا۔ وہ ستائیسویں رات ہے۔»
یہ حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کی اجتہادی رائے تھی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ لیلۃ القدر ستائیسویں شب ہی ہوتی ہے۔
زِرّ بن حُبیش رحمہ اللہ نے ان سے پوچھا: اے ابوالمنذر رضی اللہ عنہ! آپ یہ بات کس دلیل کی بنیاد پر فرماتے ہیں؟ تو انھوں نے جواب دیا: اُس نشانی یا علامت کی بنا پر جس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دی تھی کہ اس دن سورج اس حال میں طلوع ہوتا ہے کہ اس کی شعاعیں نہیں ہوتیں۔
تو یہ ان علامتوں میں سے ایک علامت ہے جن سے استدلال کیا جاتا ہے کہ یہ لیلۃالقدر ہے۔
یہ موقف حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی اس روایت کے بھی موافق ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لیلۃ القدر کو تلاش کرو۔ تو جو اس کی تلاش میں ہو، وہ ستائیسویں رات میں اسے تلاش کرے۔»
اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بھی قسم کھایا کرتے تھے کہ لیلۃ القدر ستائیسویں رات ہے۔ یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس کا تعین بعض برسوں کے اعتبار سے ہوا ہے، لیکن اصل حکم یہ ہے کہ لیلۃ القدر منتقل ہوتی رہتی ہے، چنانچہ وہ ہر رمضان میں آتی ہے، آخری عشرے کی طاق راتوں میں اس کی تلاش کی زیادہ تاکید کی گئی ہے اور ستائیسویں شب میں اس کے ہونے کی امید زیادہ ہے۔ اس لیے ممکن ہے کہ کسی سال وہ ستائیسویں رات میں ہو، کسی سال تئیسویں یا اکیسویں رات میں اور اسى طرح (كسى سال ان ہى کے ہم مثل كسى اور رات میں)۔
حدیث مبارک اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ستائیسویں شب اُن راتوں میں سب سے زیادہ لیلۃ القدر ہونے کا امکان رکھتی ہے، جن میں لیلۃ القدر تلاش کی جاتی ہے۔ اسی طرح حدیث مبارک اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ خبر کی تاکید اور بیانِ حق کے لیے بغیر کسی مطالبے کے بھی قسم کھانا جائز ہے۔ مزید برآں حدیث میں لیلۃ القدر کو مخفی رکھنے کی شرعی حکمت بھی بیان ہوئی ہے، تاکہ لوگ آخری عشرے کی تمام راتوں میں عبادت میں محنت کریں جس کے نتیجے میں اعمال کی کثرت ہو، اَجر بڑھ جائے اور بندے کی سچی طلب اور اخلاص نمایاں ہو۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔