بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«دو مہینے ناقص نہیں ہوتے، یعنی عید کے دو مہینے: رمضان اور ذوالحجہ۔»


یہ حدیث بروایت حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 1912) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1089) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ صحیح بخاری کے ہیں۔ 


حدیث کی مختصر وضاحت


یہ اللہ تعالیٰ کا اِس اُمت پر نہایت کریمانہ فضل ہے کہ اُس نے اِس کے لیے اجر کئی گنا بڑھا دیا، اِس پر ثواب کامل فرمادیا اور اپنے فضل سے اس میں مزید اضافہ فرمایا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بعض اوقات اور زمانوں کو اطاعت وبندگی کے خصوصی موسم بنا دیا ہے جن میں نیک اعمال بڑھا دیے جاتے اور گناہ مٹا دیے جاتے ہیں۔
چنانچہ حضرت ابوبکرہ نُفَیع بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «دو مہینے ناقص نہیں ہوتے۔» یعنی ان دو مہینوں کا اجر وثواب ان کے دنوں کی تعداد کم ہونے سے گھٹتا نہیں، چنانچہ فضیلت کے اعتبار سے یہ دونوں کامل ہی شمار ہوتے ہیں۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ دونوں مہینے عموماً ایک ہی سال میں ایک ساتھ کم نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ بھی چند آراء منقول ہیں، تاہم پہلا مفہوم زیادہ واضح اور قوی ہے۔
فرمانِ نبوی «یعنی عید کے دو مہینے: رمضان اور ذوالحجہ۔» چنانچہ ذوالحجہ کا عید والا مہینا ہونا تو ظاہر ہے، جبکہ رمضان کو عید کا مہینا اس لیے کہا گیا کہ عیدالفطر اس کے متصل بعد آتی ہے تو قربِ زمانی کی بنا پر اسے عید سے منسوب کر دیا گیا۔
نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں مہینوں کو خاص طور پر اس لیے ذکر فرمایا کہ روزہ، عید اور حج جیسے عظیم شرعی احکام انھی دو مہینوں کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔
حدیث مبارک ماہِ رمضان اور ماہِ ذوالحجہ کی عظیم فضیلت اور بلند مرتبے پر دلالت کرتی ہے۔ اسی طرح اس میں مسلمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ ان دونوں مہینوں میں عبادت میں خوب محنت کرے، تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عظیم الشان اجر اور وافر فضل کا مستحق بن سکے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔