بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام مہینوں میں ماہِ شعبان کے روزے رکھنا سب سے زیادہ پسند تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے رمضان کے ساتھ ملا دیتے تھے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مسند احمد (حدیث نمبر 25548)، سنن ابوداود (حدیث نمبر 2431) اور سنن نسائی (حدیث نمبر 2350) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ سنن ابوداود کے ہیں۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 4628) اور صحیح سنن ابوداود (حدیث نمبر 2101)۔ 


حدیث کی مختصر وضاحت


یہ حدیث مبارک واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض مہینوں کو بعض پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم ماہِ شعبان میں خصوصی اہتمام فرمایا کرتے تھے، چنانچہ اس مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت روزے رکھا کرتے تھے، جیساکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کی خبر دی ہے۔ اسی کی گواہی حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی حدیث بھی دیتی ہے، چنانچہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے آپ کو کسی اور مہینے میں اتنے روزے رکھتے نہیں دیکھا جتنے آپ ماہِ شعبان میں رکھتے ہیں؟ فرمایا: «یہ وہ مہینا ہے جس سے لوگ غفلت برتتے ہیں کیونکہ یہ رجب اور رمضان کے درمیان واقع ہے، حالانکہ اس مہینے میں اعمال رب العالمین کے حضور پیش کیے جاتے ہیں اور مجھے یہ پسند ہے کہ میرا عمل اس حال میں پیش ہو کہ میں روزے سے ہوں۔»
چنانچہ اس سے واضح ہوا کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں بکثرت روزے رکھتے اور اس عمل پر پابندی اور مداومت فرماتے تھے، البتہ نفلی روزوں کی مطلق فضیلت کے اعتبار سے سب سے افضل روزے ماہِ محرم کے ہیں، جیساکہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: «ماہِ رمضان کے بعد سب سے افضل روزے محرم کے ہیں۔»
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے فرمان «آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کو رمضان سے ملا دیتے تھے» سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پورے ماہِ شعبان کے روزے رکھتے تھے، لیکن اسے ماہِ شعبان کے اکثر دنوں کے روزوں پر محمول کیا جائے گا کیونکہ خود انھی سے ثابت ہے کہ انھوں نے فرمایا: «میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماہِ رمضان کے علاوہ کبھی کسی پورے مہینے کے روزے رکھتے نہیں دیکھا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماہِ شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے رکھتے نہیں دیکھا۔»
اس حدیث میں اور ان احادیث میں کوئی تعارض نہیں جن میں ماہِ رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے، یا جن میں ماہِ شعبان کے دوسرے نصف میں روزوں سے روکا گیا ہے کیونکہ یہ ممانعت اُن لوگوں کے لیے ہے جن کی عادت پہلے سے نفلی روزے رکھنے کی نہ ہو، البتہ وہ شخص جس کی عادت روزے رکھنے کی ہو، یا جس کا روزہ ماہِ شعبان کے پہلے نصف سے چلا آرہا ہو تو وہ اس ممانعت میں داخل نہیں ہوگا۔
حدیث مبارک ماہِ شعبان کی فضیلت، اس کی منزلت، نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کے ساتھ خاص محبت اور ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے کی ترغیب پر دلالت کرتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ حدیث عبادت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محنت وکوشش پر روشنی ڈالتی ہے۔ اسی طرح اس حدیث سے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت، وسعتِ علم اور امت تک سنتِ نبوی پہنچانے کی شدید خواہش نمایاں ہوتی ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔