پیر 4 صفر 1448 | 2026-07-20

A a

«بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لیلۃ القدر کے بارے میں فرمایا: وہ ایک معتدل روشن (صاف) رات ہے، نہ گرم نہ ٹھنڈى اور اس کی صبح کو سورج یوں طلوع ہوتا ہے کہ اس کی تپش مدہم اور رنگت سرخی مائل ہوتی ہے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مسند ابوداود طیالسی (حدیث نمبر 2802)، صحیح ابن خزیمہ (حدیث نمبر 2192) اور فضائل الاوقات از بیہقی (حدیث نمبر 101) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ مسند ابوداود طیالسی کے ہیں۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 5475)۔ 


حدیث کی مختصر وضاحت


لیلۃ القدر نہایت عظیم الشان رات ہے۔ حدیث نے اس کی کچھ ایسی نشانیاں بیان کی ہیں جن کے ذریعے اس رات کو پہچانا جاسکتا ہے۔ انھی میں سے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی ہے: «معتدل روشن رات» یعنی نرم اور خوشگوار رات۔ فرمانِ نبوی«نہ گرم نہ ٹھنڈى» یعنی اس کا موسم معتدل ہوتا ہے جس میں کسی قسم کی شدت یا اذیت نہیں پائی جاتی۔ فرمانِ نبوی «اس کی صبح کو سورج یوں طلوع ہوتا ہے کہ اس کی تپش مدہم اور رنگت سرخی مائل ہوتی ہے۔» یعنی سورج کی روشنی کمزور ہوتی ہے، اس کی شعاعیں نہیں ہوتیں کہ دیکھنے والا بغیر کسی تکلیف کے اس کی طرف نظر کرسکتا ہے۔ اس مفہوم کی تائید صحیح مسلم کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے: «اس (دن کے سورج) کی شعاعیں نہیں ہوتیں۔»
فرمانِ نبوی «حمراء» (سرخ) یعنی گہرا سرخ۔ اس رات کا نام ’’قدر کی رات‘‘ (لیلۃ القدر، یا شبِ قدر) اس لیے رکھا گیا ہے کہ اس میں فیصلے اور تقدیریں طے کی جاتی ہیں اور آئندہ سال کے رزق اور موت وحیات کا فیصلہ ہوتا ہے، جیساکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اس میں ہر محکم کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔‘‘ (الدخان: 4)
یاد رہے کہ یہ ضروری نہیں کہ اس رات قیام کرنے والا لازماً اس کی تمام علامات کا ادراک بھی کرلے گا اور نہ یہ ضروری ہے کہ کسی علامت کا ظاہر نہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ رات ’’لیلۃُ القدر‘‘ نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ جس پر چاہے، اس رات کی پہچان کو مخفی رکھ دیتا ہے۔
اس علامت کو بیان کرنے کی حکمت یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ بندے کو اس مبارک رات کے قیام کی توفیق دے تو وہ اپنے رب کا شکر ادا کرے اور اگر وہ اس سعادت سے محروم رہ جائے تو تاسف کرتے ہوئے اپنی آئندہ کی زندگی میں اس کی تلافی کی کوشش کرے۔
یہ حدیث مبارک لیلۃُ القدر کی بعض علامات کی وضاحت پر دلالت کرتی ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔