بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبرے اور سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی کی۔» راوی کہتے ہیں: «میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انھیں اپنے ہاتھ سے ذبح کر رہے ہیں اور یہ بھی دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا پاؤں ان کے پہلوؤں پر رکھے ہوئے ہیں۔» راوی کہتے ہیں: «نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’بسم اللہ واللہ اکبر‘‘ پڑھا۔»


یہ حدیث بروایت حضرت انس رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 5564) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1966) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔


حدیث کی مختصر وضاحت


مسلمان یومِ نحر (10 ذوالحجہ) اور ایامِ تشریق (11 تا 13 ذوالحجہ) میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے قربانی کے جانور ذبح کرتے ہیں۔ یہ عبادت شعائرِ اسلام میں سے ایک نمایاں اور ظاہری شعار ہے۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات اور اپنے عملی نمونے کے ذریعے اس کے احکام، سنن اور آداب بیان فرمائے ہیں۔ انھی میں سے وہ حدیث بھی ہے جسے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ «رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھوں کی قربانی کی۔» یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقرب الی اللہ کے لیے دو جانور ذبح کیے۔ ’’کبش‘‘ نر بھیڑ (مینڈھے) کو کہتے ہیں۔ ایک روایت میں «ذبح کیا کرتے تھے» کے الفاظ آئے ہیں جن سے اس عبادت پر ہمیشگی اختیار کرنے کا پتا چلتا ہے۔ «دو چتکبرے» یعنی ایسے دو سفید جانور جن کی سفیدی میں سیاہی کی آمیزش ہو۔ بعض روایات میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے جانور کا یہ وصف بھی آیا ہے کہ وہ «سیاہی میں دیکھتا، سیاہی میں کھاتا اور سیاہی میں چلتا تھا۔» (یعنی اس کی آنکھوں، مُنھ اور پاؤں کے گرد سیاہی کے آثار تھے)۔ الفاظِ روایت «دو سینگوں والے» یعنی ان دونوں میں سے ہر ایک کے دو سینگ تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سینگوں والے جانور کا انتخاب اس بات کی دلیل ہے کہ قربانی میں ایسا جانور مستحب ہے جو خِلقت کے اعتبار سے زیادہ کامل ہو کیونکہ سینگوں کا وجود خِلقت کی کاملیت اور جانور کی قوت شمار ہوتا ہے۔ «میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انھیں اپنے ہاتھ سے ذبح کر رہے ہیں» یعنی نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع کے طور پر اپنے دستِ مبارک سے بذاتِ خود ذبح فرمائی اور کسی کو اپنا نائب نہیں بنایا۔ علاوہ ازیں بذاتِ خود عبادت کی انجام دہی تقرب الی اللہ میں زیادہ کامل ہے، البتہ نیابت ووکالت بھی بالاتفاق جائز ہے۔ «اپنا پاؤں ان کے پہلوؤں پر رکھے ہوئے ہیں۔» جانور کو پہلو کے بل لٹانے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا قدمِ شریف ذبیحے کی گردن کے پہلو پر رکھا، تاکہ ذبح کرنے میں گرفت مضبوط رہے اور چھری کی مضبوط پکڑ بآسانی ممکن ہوسکے۔ «اور نام لیا اور بڑھائی بیان کی» یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’بسم اللہ واللہ اکبر‘‘ کہا۔ جمہور اہلِ علم کے نزدیک بسم اللہ کہنا ذبیحے کے حلال ہونے کے لیے شرط ہے، البتہ بے علمی اور بھول چوک کی صورت میں یہ شرط ساقط ہوجائے گی۔ جبکہ دیگر اہلِ علم نے فرمایا ہے کہ ذبح کے وقت ’’بسم اللہ‘‘ پڑھنا سنت ہے۔اور جہاں تک بات ’’اللہ اکبر‘‘ کہنے کى ہے تو یہ (بلا خلاف) سنت ہے، جسے اس لیے مشروع کیا گیا ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی تعظیم ہے۔ چونکہ ذبح کرنا بذاتِ خود ایک عبادت اور تقرب کا عمل ہے، اس لیے مناسب تھا کہ اس فعلی (عملی) عبادت کو قولی (زبانی) عبادت کے ساتھ ملادیا جائے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔