بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں عید الاضحی میں حاضر ہوا تھا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسے ہی نماز پڑھی اور اپنی نماز سے فارغ ہو کر سلام پھیرا تو اچانک قربانیوں کا گوشت دیکھا جنھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی ذبح کیا جاچکا تھا۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنی قربانی نماز پڑھنے سے پہلے، یا ہمارے نماز پڑھنے سے پہلے ذبح کرلی ہے تو وہ اس کی جگہ دوسری قربانی ذبح کرے اور جس نے ابھی ذبح نہیں کی تو وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرلے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت جندب بن سفيان رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 5500) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1960) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔ 


حدیث کی مختصر وضاحت


چونکہ قربانی ایک عظیم الشان عبادت اور شعائرِ اسلام میں سے ایک نمایاں شعار ہے، اس لیے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے لیے اس کے احکام کی کافی وشافی وضاحت فرمادی۔ ان میں سے ایک حکم (قربانی کے جانور) ذبح کرنے کا وقت ہے، چنانچہ حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ اپنی قربانیاں اپنی نماز سے فراغت سے قبل ہی ذبح کرچکے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جس نے اپنی قربانی نماز پڑھنے سے پہلے، یا ہمارے نماز پڑھنے سے پہلے ذبح کرلی ہے تو وہ اس کی جگہ دوسری قربانی ذبح کرے۔»
اس حدیث مبارک میں صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ عید کی نماز سے پہلے قربانی ذبح کرنا مُجزِى نہیں ہو گا (یعنی بطور قربانی اس کا اعتبار نہیں ہوگا) کیونکہ یہ ایسی عبادت ہے جس کا مخصوص وقت شریعت نے مقرر کیا ہے، لہٰذا جس نے وقت سے پہلے قربانی کا جانور ذبح کرلیا تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس کی جگہ دوسری قربانی ذبح کرے۔ البتہ علماء کے ایک گروہ کی رائے یہ ہے کہ اگر کوئی شخص شرعی حکم سے بے علم ہو تو اس کی وہی قربانی کفایت کرے گی، مگر جمہور علماء کا موقف ایسی قربانی کے مجزى نہ ہونے کا ہے۔ انھوں نے حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ والی حدیث کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی بنا پر ان کی خصوصیت پر محمول کیا ہے: «اور یہ (بکری کا بچہ) تمھارے بعد کسی کے لیے مجزى نہیں ہوگا۔»
فرمانِ نبوی «اور جس نے ابھی ذبح نہیں کیا تو وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرلے۔» اس میں ذبح کے وقت ’’تسمیہ‘‘ یعنی بسم اللہ پڑھنے کا حکم ہے۔ اہلِ علم کی ایک جماعت کے نزدیک تسمیہ ذبیحے کے حلال ہونے کے لیے شرط ہے۔ دیگر علماء کا کہنا ہے کہ یہ شرط تو ہے، لیکن بے علمی یا بھول چوک کی صورت میں ساقط ہوجاتی ہے۔ اور کچھ علماء اسے سنت قرار دیتے ہیں۔ بہرصورت ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ ذبح کے وقت ’’بسم اللہ‘‘ پڑھنےکا خاص اہتمام کرے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔