جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«ایامِ تشریق کھانے پینے کے دن ہیں۔» اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے: «اور اللہ کے ذکر کے دن ہیں۔»


یہ حدیث بروایت حضرت نُبَیشہ ہذلی رضی اللہ عنہ صحیح مسلم (حدیث نمبر 1141) میں مروی ہے۔
اور بروایت حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ صحیح مسلم کی ایک روایت (حدیث نمبر 1142) میں یوں ہے: «ایامِ منیٰ کھانے پینے کے دن ہیں۔»


حدیث کی مختصر وضاحت


شریعتِ اسلامیہ کے محاسن میں سے یہ پہلو بھی ہے کہ اس نے عبادت اور وسعت وخوشی کے درمیان توازن قائم کیا ہے، چنانچہ جس طرح اطاعتِ الٰہی میں جہد وسعی کا حکم ہے، اسی طرح عظیم الشان شعائر کی ادائیگی کے بعد وسعت وخوشی کو مشروع کیا گیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے امت کے لیے ایسے ایام ومواقع مقرر فرمائے ہیں جن میں لوگ اللہ کے ذکر کے ساتھ ساتھ اپنی خوشی کا اظہار بھی کر سکیں۔
نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان اسی تناظر میں ہے: «ایامِ تشریق کھانے پینے اور اللہ کے ذکر کے دن ہیں۔»
’’ایامِ تشریق‘‘ سے مراد منیٰ میں قیام کے دن ہیں، جیساکہ دوسری روایت کے الفاظ ہیں: «ایامِ منیٰ کھانے پینے کے دن ہیں۔» انھیں قرآن کریم میں ’’ایامِ معدودات‘‘ (چند متعین دن) کہا گیا ہے، یعنی ذوالحجہ کی گیارہ، بارہ اور تیرہ تاریخ۔ انھیں ’’ایامِ تشریق‘‘ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ ان دنوں میں قربانی کے گوشت کو دھوپ لگوائی جاتی تھی، یعنی قربانی کا گوشت دھوپ میں پھیلا کر خشک کیا جاتا تھا (’’تشریق‘‘ کے لغوی معنی ہیں دھوپ میں رکھنا)، تاکہ لوگ قیامِ منیٰ کے دوران اس سے فائدہ اُٹھا سکیں۔
فرمانِ نبوی «کھانے پینے کے دن» اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ایامِ مسرت اور اللہ کی نعمتوں کے اظہار کے دن ہیں۔ ان دنوں میں روزہ رکھنے کی ممانعت کی یہی وجہ ہے، چنانچہ ان ایام میں نہ تو نفلی روزہ رکھنا جائز ہے، نہ قضا کا اور نہ نذر کا۔ البتہ اس سے حجِ تمتع کرنے والا وہ شخص مستثنیٰ ہے جسے ہدی (حج کی قربانی کا جانور) میسر نہ ہو تو اسے ایامِ حج میں تین روزے رکھنا ہوں گے، خواہ ایامِ تشریق میں رکھے، جیساکہ حضرت عائشہ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کی حدیث ہے کہ دونوں نے فرمايا: «ایامِ تشریق کا روزہ رکھنے کی رخصت نہیں دی گئی، سوائے اس شخص کے جسے ’’ہدی‘‘ میسر نہ ہو۔»
فرمانِ نبوی ہے: «کھانے پینے کے دن ہیں۔» ایسا تغلیباً فرمایا گیا ہے، ورنہ یومِ نحر (۱۰ ذوالحجہ، یعنی عید کا پہلا دن) بھی کھانے پینے ہی کا دن ہے، بلکہ اصل کھانے پینے کا دن یہی ہے، جبکہ ایامِ تشریق اس معنی میں یومِ نحر کے تابع ہیں۔
فرمانِ نبوی «اللہ کے ذکر کے دن ہیں» اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ دن لہو ولعب اور غفلت کے لیے نہیں، بلکہ ان میں بکثرت اللہ کا ذکر کرنا مشروع ہے، تاکہ کھانا پینا محض نفسانی لذت کے لیے نہ ہو، بلکہ اللہ کی اطاعت وبندگی میں مددگار ثابت ہو۔ یہ فرمان حاجی اور غیرحاجی، دونوں کے لیے یکساں ہے۔
حدیث مبارک کے فوائد میں سے یہ ہے کہ ایامِ تشریق میں بکثرت اللہ کا ذکر، بالخصوص تکبیرات کا اہتمام کرنا مستحب ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے جو کھانے پینے کی چیزیں حلال فرمائی ہیں، خاص طور پر ہدی اور قربانی کا گوشت، ان سے لطف اندوز ہونا۔ علاوہ ازیں ان دنوں کے روزے رکھنا حرام ہے، سوائے حج تمتع کرنے والے اُس شخص کے لیے جسے ہدی (حج کی قربانی کا جانور) میسر نہ ہو۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔