جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«اللہ تعالیٰ جس بندے پر دنیا میں پردہ ڈال دیتا ہے، تو قیامت کے دن بھی اس پر پردہ ڈال دےگا۔»


یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ صحیح مسلم (حدیث نمبر 2590) میں مروی ہے۔


حدیث کی مختصر وضاحت


اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربان ہے۔ وہ گناہ معاف کرتا اور عیب چھپاتا ہے کیوں کہ وہ بہت پردہ پوش اور بڑا کریم ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت اور اس کی عظیم الشان مغفرت کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ جسے اللہ دنیا میں چھپا لیتا ہے اور اس کے گناہ کی وجہ سے اسے رسوا نہیں کرتا تویقینا قيامت کے دن بھى اللہ تعالى مخلوقات کے درمیان اس کى پردہ پوشى کرے گا،بلکہ اللہ تعالیٰ بندے کے گناہوں پر تنہائی میں اقرار لے گا اور پھر اسے معاف فرما دے گا،جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں آیا ہے:
«میں نے دنيا میں تیرے گناہوں کو ڈھانپے ركھا اور آج ان گناہوں کے تعلق سے تیرى مغفرت کرتا ہوں»
یہ اللہ تعالیٰ کے کامل فضل میں سے ہے کہ اس نے اپنے بندے کے لیے پردہ پوشی اور مغفرت دونوں کو یکجا فرمادیا، چنانچہ دنیا میں عزت وآبرو اورنیک نامی کی حفاظت کے ذریعے اس کا اِکرام فرمایا اور آخرت میں گناہ کی پردہ پوشی اور معافی کے ذریعے کرم فرمایا۔
اس حدیث میں یہ اشارہ ہے کہ اگر انسان گناہ میں مبتلا ہو جائے تو اُسے چاہیے کہ خود اپنا پردہ رکھے،
تاکہ اِس فضلِ عظیم کے حصول کی اُمید باقی رہے۔
اور اس میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں جس کی پردہ پوشی فرمائے تو اس کا کرم یہ تقاضہ کرتا ہے کہ وہ اس بندے کو آخرت میں بھی رسوا نہ فرمائے۔
اس حدیث میں گناہ گاروں کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے، بشرطیکہ وہ اللہ تعالیٰ کی پردہ پوشی کے دامن میں پناہ گزیں رہیں۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔