جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے دونوں کپڑے پہنے کیونکہ اللہ اس کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس کے لئے زینت اختيار كرو۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مسند بزار (حدیث نمبر 5903) اور المعجم الاوسط (حدیث نمبر 9368) میں مروی ہے۔ اور الفاظ مسند بزار کے ہیں۔
نیز ملاحظہ ہو: صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 652) اور سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ (حدیث نمبر 1369)


حدیث کی مختصر وضاحت


مسلمان کو چاہیے کہ وہ نماز کی عظمت کے پیش نظر جو اچھے کپڑے اسے میسر ہوں، وہ اپنی نماز کے لیے انھیں پہنے۔ چنانچہ اس کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ نماز ایک تہبند اور ایک چادر میں ادا کرے جن سے بدن کا بالائی اور زیریں حصہ ڈھانپ لیا جائے۔ يا كسى بھى ایسے کپڑے میں جو تہبند اور چادر کى جگہ لے سکے اور جو پورے بدن کو چھپا دے، تاکہ زینت کا اظہار ہو۔
اگرچہ ایک ایسا کپڑا جس سے ستر چھپ جائے، اس میں نماز پڑھنا اکثر علماء کے نزدیک درست ہے،مگر دو کپڑوں کا پہننا زیادہ کامل اور افضل ہے کیونکہ یہ اُس زینت میں شامل ہے جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان میں دیا ہے:
{ہر نماز کے وقت اپنی زینت اختیار کرو} (الاعراف: 31)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس آیت مبارکہ سے یہی معنی سمجھا ہے، چنانچہ جب انھوں نے نافع کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا تو ان سے فرمایا: «اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس کے لئے زینت اختيار كرو۔»
یہاں ’’زینت‘‘ سے مراد یہ ہے کہ ایسا اچھا اور صاف ستھرا لباس پہن کر نماز کے لیے تیاری کرنا جو پورے بدن کو چھپاتا ہو۔
اس حدیث میں یہ بیان ہوا ہے کہ نماز میں ظاہری حالت کی خوبصورتی کا خیال رکھنا بھی شعائرِ دین کی تعظیم کی علامت ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔