«قیامت کے قریب ایک لشکر کعبہ پر چڑھائی کرے گا۔ جب وہ مقام ’’بیداء‘‘ میں پہنچے گا تو ان کے اول تا آخر سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اسے شروع سے آخر تک کیوں کر دھنسایا جائے گا، جب کہ ان کے مابین اہل بازار (تجار) ہوں گےاور وہ لوگ بھی ہوں گے جو ان لشکریوں میں سے نہیں ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اوّل سے آخر تک سب کو دھنسا دیا جائے گا اور پھر ان کی نیتوں کے مطابق انھیں اٹھایا جائے گا۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا صحیح بخاری (حدیث نمبر 2118) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 2884) میں مروی ہے۔ اور الفاظ صحيح بخارى کے ہیں۔
صحیح مسلم کی ایک حدیث (حدیث نمبر 2883) بروایت حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا یہ الفاظ ہیں:
«ان میں سے ایک علیحدہ رہ جانے والے شخص کے سوا، جو ان کے بارے میں خبر دے گا، کوئی اور (زندہ) باقی نہیں بچے گا۔»
حدیث کی مختصر وضاحت
اللہ تعالیٰ نے اپنے حرمت والے گھر (کعبہ) کو عظمت بخشی اور ہر اُس شخص سے اس کی حفاظت فرمائی جو اس کے ساتھ بُرائی کا اِرادہ رکھتا ہو کیوں کہ یہ وہ پہلا گھر ہے جو لوگوں کے لیے بنایا گیا اور اللہ نے اسے امن والا قرار دیا،جیساکہ اس کا فرمان ہے:
’’اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ بے شک ہم نے ایک حرم امن والا بنا دیا ہے، جب کہ لوگ ان کے گرد سے اچک لیے جاتے ہیں۔‘‘ (العنکبوت: 67)
اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم خبر دیتے ہیں کہ ایک لشکر کعبہ پر چڑھائی کرے گا،یہاں تک کہ جب وہ مقامِ ’’بیداء‘‘(جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ایسی وسیع جگہ ہے جہاں کوئی آبادی نہیں) میں پہنچیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے پہلے اور آخری (سب) کو زمین میں دھنسا دے گا، سوائے نجات پانے والے کے جو دوسروں کو ان کے بارے میں خبر دے گا۔
جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی تو تعجب سے پوچھا: کیا سب پر عذاب نازل ہوگا؟ حالانکہ ان میں وہ لوگ بھی ہوں گے جو ان سے نہیں ہوں گے، جیسے: تاجر، قیدی، یا وہ لوگ جو بغیر تخریب واذیت رسانی کے ارادے کے محض وہاں موجود ہوں گے! تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عذاب نیک وبد سب پر عام ہو گا،لیکن قیامت کے دن انھیں ان کی نیتوں کے مطابق اُٹھایا جائے گا اور ہر ایک کا حساب اس کے ارادے کے مطابق ہوگا، چنانچہ جس کی نیت اچھی ہوگی، وہ اپنے نیک ارادے کے ساتھ اُٹھایا جائے گا اور جس کی نیت بُری ہوگی، وہ ہلاک ہوگا۔
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ نیت کا اثر ہوتا ہے اور یہ کہ نیت كا اعتبار بھى عمل جیسا ہوتا ہے، چنانچہ جس نے اچھی نیت کی تو اس کے لیے اچھا بدلہ ہے اور جس نے بُری نیت کی تو اس کےلیے بُرا بدلہ ہوگا۔
اس حدیث میں یہ بھی تنبیہ ہے کہ ظالموں کی صحبت سے بچنا چاہیے۔
نیز یہ بھی مذکور ہے کہ جو شخص بیت اللہ کے ساتھ کسی بُرے کام کا اِرادہ کرے تو اللہ تعالیٰ اسے ہلاک فرمادیتا ہے۔
علاوہ ازیں اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غیبی خبر دی ہے جو آخری زمانے میں واقع ہو گی، چنانچہ اس خبر کے واقع ہوجانے پرنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی سچائی مزید ظاہر ہوگی، جیساکہ وہ دوسری خبریں سچ ثابت ہوئیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دی تھیں۔