جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«رحم (خونی رشتوں کا سارا سلسلہ) عرش کے ساتھ چمٹا ہوا ہے اور یہ کہتا ہے: جس نے میرے تعلق کو جوڑ کر رکھا، اللہ اس کے ساتھ تعلق جوڑے اور جس نے میرے تعلق کو توڑ دیا، اللہ تعالیٰ اس سے تعلق توڑ لے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا صحیح مسلم (حدیث نمبر 25555) میں مروی ہے۔


حدیث کی مختصر وضاحت


اللہ تعالیٰ نے ’’رحم‘‘ (خونی رشتہ داری) کے مقام کو بلند فرمایا اور اسے اپنی قربت اور عنایت پانے کے سب سے عظیم اسباب میں سے ایک قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ جو اسے توڑتا ہے، وہ گویا خود کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دُور کرنے والے سب سے بڑے سبب کے حوالے کردیتا ہے۔
اس حدیث مبارک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم خبر دیتے ہیں کہ ’’رحم‘‘ عرش سے معلّق ہے، یعنی عرشِ رحمان سے وابستہ ہے، قطع رحم اللہ کى پناہ مانگتی ہے اور صلہ رحمی کے وجوب اور قطع رحمی سے بچاؤ کے لیے علانیہ طور پر کہتی ہے کہ ’’جو مجھے جوڑے گا، اللہ اُسے جوڑے گا اور جو مجھے توڑے گا، اللہ اُسے توڑے گا۔‘‘
چنانچہ جس نے رشتہ داروں پر اپنا مال خرچ کر کے، یا ان کی خدمت کر کے، یا ان سے ملاقات کرکے، یا ان کی خبرگیری کے لیے انھیں خط لکھنے کی صورت میں، یا اُن تمام طریقوں سے جو دلوں کی مودّت ومحبت کا باعث بنتے ہیں، اپنی رشتہ داری کو احسان کرتے ہوئے جوڑا تو اللہ تعالیٰ اُسے اپنے عظیم الشان احسان سے جوڑ دیتا ہے، چنانچہ وہ اس کے رزق اور عمر میں برکت فرمادیتا ہے اور اُس پر خیر وبرکات نازل فرماتا ہے۔
لیکن جو قطع رحمی کرتا ہے، یعنی صلہ رحمی اور اپنے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک چھوڑدیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی کامل نگہداشت، احسانِ جمیل اور عظیم الشان رحمت سے کاٹ دیتا ہے۔ یہ اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ ہوتا ہے۔
اور ’’اَرحام‘‘ (قریبی رشتے ) وہ تمام قرابت دار ہیں جن سے نسبی رشتہ ہو، خواہ — وہ قرابت دار باپ کی طرف سے ہوں یا ماں کی طرف سے، مثلاً: دادا، دادی، بھائی، بہن، چچا، پھوپھی، ماموں، خالہ اور اُن کی اولاد۔
البتہ رشتوں کے ساتھ صلہ رحمی قُرب وبُعد کے اعتبار سے مختلف مراتب رکھتی ہے، چنانچہ رشتہ جتنا قریبی ہو، صلہ رحمی کا وجوب بڑھتا جاتا ہے اور قطع رحمی کا گناہ زیادہ سنگین ہوجاتا ہے۔ اسی طرح رشتہ جس قدر دور کا ہوتا جائے گا، قطع رحمی کا گناہ اور سنگینی کم ہوتی جائے گی۔
اس حدیث میں صلہ رحمی کا وجوب بیان ہوا اور قطع رحمی سے ڈرایا گیا ہے۔
اسی طرح حدیث مبارک میں یہ بھی ہے کہ بدلہ عمل کی جنس سے ہوتا ہے، چنانچہ جو رشتوں کو جوڑے گا، اللہ تعالیٰ اُسے (اپنی رحمت وفضل سے) جوڑے گا۔
علاوہ ازیں حدیث مبارک میں دلیل ہے کہ ’’رحم‘‘ (خونى رشتہ دارى) اللہ کے قریب ہے کیونکہ وہ عرش سے معلّق ہے جو اس کے شرف، بلند مقام اور ’’رحم‘‘ کی دعا کی جلد قبولیت کی علامت ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔