جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«جو شخص اپنے بیٹھنے کی جگہ سے اُٹھ (کر کہیں چلا) جائے، پھر اس جگہ واپس پلٹے تو اس جگہ پر بیٹھنے کا وہ زیادہ استحقاق رکھتا ہے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ صحیح مسلم (حدیث نمبر 2179) میں مروی ہے۔


حدیث کی مختصر وضاحت


اسلام کی خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ ہے کہ وہ انسانوں کے باہمی حقوق کا خیال رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ انھی حقوق میں مجلس کے آداب وحقوق بھی شامل ہیں کیونکہ ان سے معاشرے میں اُلفت ومحبت اور اتحاد ویگانگت پیدا ہوتی ہے۔
مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کسی جگہ بیٹھا ہو، پھر کسی ضرورت کے تحت، مثلاً: وضو کرنے، گفتگو کرنے، یا کسی اور ضرورت کےتحت وہاں واپس لوٹنے کے ارادے سے اُٹھے اور وہ زیادہ دیر تک غیرحاضر نہ رہے تو کسی دوسرے شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس کی جگہ پر قابض ہو کیونکہ وہ شخص اپنی سابقہ نشست کا زیادہ حق دار ہے، خواہ اُس نے وہاں (نشانی کے طور پر) کوئی سامان چھوڑا ہو یا نہ چھوڑا ہو۔
اگر اس دوران کوئی دوسرا شخص وہاں بیٹھ چکا ہو تو پہلا شخص اُسے اپنی جگہ سے اُٹھا سکتا ہے کیونکہ جگہ کا حق اُسی کا ہے، جب کہ دوسرے شخص کو بھی چاہیے کہ وہ خوشدلی سے اور اپنے بھائی کے حق کا لحاظ کرتے، باہمی رفاقت میں حسنِ سلوک کا مظاہرہ کرتے اور اخوت وبھائی چارے کی فضا خراب کرنے والی چیز سے بچتے ہوئے جگہ چھوڑ دے۔
یاد رہے کہ یہاں ’’مجلس‘‘ سے مراد عام ہے، چنانچہ اس میں مجالسِ علم، مشاورتی اجلاس، عوامی مجالس، دفاتر کی بیٹھکیں، یا پیشہ ورانہ محفلیں، سب شامل ہیں، اس لیے ایسی کسی بھی مجلس میں سے اگر کوئی شخص تھوڑی دیر کے لیے ضرورتاً اُٹھے اور پھر جلد واپس آجائے تو وہ اپنی سابقہ جگہ کا حق دوسروں کی نسبت زیادہ رکھتا ہے۔


غلطی کی اطلاع دیں۔